Badaltay Rishtay By Muhammad Tabish




  نگینہ کی آج شادی کی رات تھی وہ سج دھج کے بیڈ پر سرخ جوڑے میں لپٹی بیٹھی بے چینی سے اپنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی اسکے ذہین میں کئی طرح کے خوف تھے نگینہ کالج کی طالبہ تھی اور ارشد سے اسکی ملاقات بس سٹاپ پر ہوئی تھی ارشد کالے رنگ کی عینک لگائے اور پینٹ شرٹ میں ملبوس نگینہ کو تکتا رہتا تھا شروع شروع میں نگینہ نے ارشد پر دھیان نہ دیا مگر جب وہ ایک ہی جگہ ایک ہی وقت نگینہ کے لیے کھڑا ہوتا تھا۔

نگینہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تھی پیار محبت کی باتوں سے بہت دور رہتی تھی نگینہ کی نظر میں محبت صرف شادی کے بعد ہی ہوتی ہے نگینہ خود میں رہنے والی لڑکیوں میں سے تھی، کسی کی بات کو دل پہ نہ لیتی اور لڑائی کے بعد دل صاف کر لیتی، ایک بار کوئی معافی مانگ لے تو اسی وقت معاف کر دیتی تھی نگینہ کے خواب بہت بڑے تھے مگر گھر کے حالات کی وجہ سے اسکے خواب ادھورے رہ گے ، وہ بس ان خوابوں کو پورا کرنا چاہتی تھی۔


نگینہ کی عمر لگ بگ 23,24کے قریب تھی نگینہ کی آنکھیں نیلی گہرئی اور ہونٹ گلابی تھے نگینہ خود پہ ذیادہ توجہ نہیں دیتی تھی مگر حسن نگینہ میں بلا کا تھا جو اسے دیکھتا بس دیکھتاہی رہتا ارشد مسلسل دو ماہ سے نگینہ کے پیچھے تھا نگینہ کو احساس اس بات کا تب ہوا جب وہ ارشد پرنگاہ ڈالتی وہ اسے ہی دیکھ رہا ہوتا تھا ایک بار خیال آیا کہ کیوں نہ اسکی شکایت کی جائے مگر پھر بوڑھے والد کا خیال آیا کہ بات آگے نہ بڑھ جائے نگینہ کا والد محنت مزدوری کرتا تھا نگینہ کے 2بھائی تھے اور جس میں سے ایک نکما تھا اور دوسرا چھوٹا تھا جو میٹرک میں پڑھائی کر رہا تھا والدہ اکثر بیمار رہتی تھی نگینہ گھر کا خرچہ چلانے کے لیے گھر میں بچوں کو ٹویشن پڑھایا کرتی تھی گھر کا کچھ خرچہ والد اور باقی نگینہ سنبھالتی تھی نگینہ کو ناولزکہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔

آپ ہر روز میرے راستے میں کیوں کھڑے ہوتے ہیں مسٹر میں مسلسل آپکو نوٹ کر رہی ہوں۔۔ آخر کار آج نگینہ نے ارشد سے ہمت کر کے سوال کر ہی دیا نگینہ کا چہرہ چونکہ دوسری طرف تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی بات بنے اس لیے نگینہ دوسری طرف چہرہ کر کے بات کر رہی تھی۔ آپ اپنی نہیں کم سے کم میری عزت کا تو خیال کریں نگینہ تھوڑی نروس بھی ہو رہی تھی اُسنے انجان شخص سے پہلی بار بات کی تھی آپکی عزت کے لیے ہی تو کھڑا ہوتا ہوں آکر آپکو شاید معلوم نہیں کہ میرے ساتھ جو لڑکے کھڑے ہوتے ہیں انکی نگاہ آپکے جسم پہ ہوتی ہے اور وہ آپکو شیطانی نگاہوں سے دیکھتے ہیں میں آپکی سیفٹی کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تاکہ آپکے ساتھ کوئی بری حرکت نہ کرے ،اس دن کچھ اوباش لڑکے آپکے بارے غلط بات کر رہے تھے دیکھیں مسٹر میرے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے مجھے پرواہ نہیں اور میری عزت اللہ پاک کے ہاتھ ہے وہ ذات اگر نہ چاہے تو کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا اور برائے مہربانی آئندہ کے بعد میر ے راستے میں مت کھڑے ہونا ۔

۔دوسری سائیڈ سے گاڑی کے نگینہ کو متوجہ کیا اور نگینہ گاڑی پر سوار ہو کر چلی گئی۔۔ ارشد نگینہ کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔نگینہ رات کو بستر پر لیٹی تو اُسے دن والا خیال آنے لگا نگینہ نے اپنا دماغ جھٹک دیا اور سو گئی چونکہ اگلے دن چھٹی تھی ۔سارا دن کام کاج کر کے نگینہ شدید تھک گئی گرمیوں کا موسم تھا نگینہ آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گی کچھ دیر میں موسم نے انگڑائی لی اور آسمان پر بادل چھا گئے ٹھنڈی ہوائیں جب چلنے لگی نگینہ گھر کی چھت پر چلی گئی اور موسم کی انگڑائی کا بھرپور فائدہ اٹھا کر آنکھیں بند کیے لمبی لمبی سانس لینے لگی۔

۔ نگینہ نگینہ نگینہ کی سماعتوں نے اپنے نام کی صدا سنی اور آنکھیں کھول کر آگے پیچھے دیکھنے لگی مگر کوئی بھی نہیں تھا ،یہ آواز جانی پہچانی تھی غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ آواز اسی بس سٹاپ والے لڑکے کی ہے بیچارے کو میں نے خوامخواہ میں سنا دی نا جانے کون تھا، اسکا دل نا جانے کیوں دل کر رہا تھا کہ وہ اس لڑکے سے معافی مانگے نگینہ نے فیصلہ کر لیا کہ کل اس لڑکے سے معافی مانگے گئی اگلے دن بس سٹاپ پر جا کھڑی ہوئی ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود وہ انجان لڑکا اسے کہیں نظر نہ آیا البتہ کچھ فقرے سننے کو ضرور ملے۔۔


پہلے تو نگینہ کسی کے کہے ہوئے فقروں پر غور نہ کرتی تھی۔۔ مگر آج اُس نے غور کیا تو نگینہ نے دل میں سوچا کہ وہ لڑکا درست کہہ رہا تھا ناجانے کون تھا کدھر سے آیا تھا سلسلہ کچھ دن یوں ہی چلتا رہا۔ نگینہ بھی اس بات کو بھولتی جا رہی تھی نگینہ کو کتابوں میں بہت دلچسپی تھی نگینہ کالج کے قریب ایک پرائیویٹ لائبیرری سے کتابیں لیا کرتی تھی اور پڑھ کر واپس کر دیا کرتی تھی ۔

آج بھی نگینہ کتاب لینے آئی، کتاب ڈھونڈتے ہوئے اسکی نظر ایک شخص پرپڑی وہ وہی شخص تھا جو بس سٹاپ پہ ملا کرتا تھا نگینہ نے ارشدکو دیکھ لیا تھا ارشد بھی کتابیں تلاش کرنے میں لگا ہوا تھا اب نگینہ کے پاس موقع تھا کہ ارشد سے بات کر لے اسی غرض سے نگینہ ارشد کے سامنے اسی امید سے جا کھڑی ہوئی کہ وہ اسے بلائے۔


نگینہ اپنابھی بھرم رکھنا چاہتی تھی ارشد کی نظر نگینہ پر پڑی۔


۔ارشد چپ ہو گیا اور باہر کی طرف چل دیا اسی اثنا ء پر نگینہ نے بھی کتابیں لی اور باہر چلی گئی ارشد شاید نگینہ کا ہی انتظارکر رہا تھا وہ دونوں سڑک پر ایک دوسرے کو تکتے اور نظر چرا لیتے ارشد نے ہمت کر کے نگینہ کو سلام کیا اور آنے کا مقصد بیان کیا ۔۔آپ یہاں کیا کر رہی ہیں آپکو بھی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے۔ ارشد نے نگینہ سے کہا۔جی مجھے بھی کتابیں ناولز پڑھنے کا بہت شوق ہے نگینہ نے نارمل انداز میں ارشد کو جواب دیا۔

گرمی بہت ہے، آئیں میں آپکو اپنی گاڑی میں آپ کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں ادھر بات کرنا مناسب نہیں ۔۔ارشد نے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نگینہ کو مخاطب کیا۔۔۔ نہیں نہیں میں چلی جاؤں گی ۔۔ارے ایسے کیسے میں خود بس سٹاپ تک چھوڑ دیتا ہوں گبھرائیں مت مجھے اپنا ہی سمجھیں۔۔۔ نگینہ اب کچھ سوچ رہی تھی اور اگلے ہی لمحے نگینہ راضی ہو گئی اور فرنٹ سیٹ پہ جا کر بیٹھ گئی ۔

۔آپ کے پاس اپنی گاڑی ہے پھر آپ بس سٹاپ پہ کیوں کھڑے ہوتے تھے نگینہ نے ارشد سے سوال کیا۔۔۔ وہ آپکے لیے کھڑا ہوتا تھا کیوں کہ آپ مجھے اچھی لگی ہیں۔۔ ارشد وقت برباد نہیں کرنا چاہتا تھا جھٹ سے انکار کر دیا۔۔۔ آپ پاگل تو نہیں ہو گئے آپ نے نہ مجھے سمجھا نہ جانا اور پسند کرنے لگے۔۔ نگینہ کا لہجہ تھوڑا سخت ہو گیا تھا محترمہ دل کسی کا ملازم نہیں ہے جو پوچھ کر کسی کو پسند کرنے لگے۔

۔۔ پھر دونوں جانب خاموشی چھا گئی ۔۔آپ سے میں نے معافی مانگنی تھی مگر آپ اس دن کے بعد نظر نہیں آئے۔۔ نگینہ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا ۔۔

معافی ایک شرط پہ مل سکتی ہے ارشد نے شرارتی انداز میں نگینہ سے کہا۔۔ کیا شرط ہے نگینہ نے ارشد کا منہ تکتے ہوئے پوچھا ۔۔بس ایک کپ چائے سے معافی مل سکتی ہے نہیں کوئی چائے وائے نہیں ٹھیک ہے۔

۔ پھر کوئی معافی تسلیم نہیں کی جائے گی آپکی۔۔ ارشد نے نگینہ سے بولا۔۔اچھا ٹھیک ہے نگینہ چائے کے لیے راضی ہو گی،، ارشد نے قریب ہی ایک فائیو سٹار ہوٹل پہ کار کو پارک کیا اور دونوں اندر چلے گئے۔ نگینہ نے آج سے پہلے اتنا شاندار ہوٹل کبھی نہیں دیکھا تھا صاف ستھرا ماحول اور اے سیوں کی ٹھنڈی ہواجیسے نگینہ پیرس پہنچ گئی ہومگر نگینہ تھوڑا گبھرا بھی رہی تھی۔

پہلی بار کسی اجنبی کے ساتھ آئی اور یہ بھی ڈر تھا کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے لیکن نگینہ کو خیال آیا کہ اسکے خاندان والے اس ہوٹل کے پاس سے بھی نہیں گزرتے۔۔۔ آپ مجھے بہت پسند ہو مجھ سے شادی کرو گئی ۔ارشد نے بیٹھے ہوئے چائے کا آرڈر کیا اور ساتھ ہی اپنی بات بھی کہہ دی۔۔۔ مسٹر کیا بات کر رہے ہیں آپ۔۔ میں اور لڑکیوں کی طرح نہیں ہوں کہ جان پہچان ہوئی نہیں اور آگے لائن مارنے۔

۔ ارے نہیں محترمہ لائن جنہیں ماری جاتی ہے انہیں میں اتنی عزت نہیں دیتا۔۔ بائے دا وے نگینہ آپ جیسی نیک لڑکی میں کبھی نہیں دیکھی۔۔ آپکو میرا نام کیسے پتہ چلا، نگینہ نے حیران ہوتے ہوئے ارشد سے پوچھا ان خوبصورت ہاتھوں میں آپ نے اپنا پیارا سا نام لکھا ہوا ہے۔ ویسے میرا نام ارشد ہے اور میرا اپنا بزنس ہے۔۔ نگینہ ہاتھ میں چائے پکڑتے ہوئے ارشد کو سن رہی تھی۔

۔ گھر کا سوچ رہی تھی کہ دیر ہو رہی ہے آپ بہت کم بولتی ہیں ۔۔ارشدکی دلی خواہش پوری ہو گئی نگینہ نے اپنا نقاب اتار لیا تھا خدا کی شان ارشد کے منہ سے یکدم سے خدا وند کریم کی تعریف سننے کو ملی کیا ہوا نگینہ نے ارشد سے جواب طلب کیا ۔۔۔کچھ نہیں ہوا اللہ پاک کی شان بیان کی ہے کہ آ پ میری سوچ سے ذیادہ خوبصورت ہیں۔ لڑکی کو اسکی تعریف سب لفظوں میں سب سے اچھی لگتی ہے مجھے اب چلنا چاہیے۔

نگینہ نے ارشد کی بات کو ان سنا کر کے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ارشد بھی نگینہ کے ساتھ چل پڑا ۔ارشد بات کو بڑھانا چاہتا تھا اور نگینہ بھی کچھ ایسا ہی چاہتی تھی مگر شرم و حیا کا پیکر بنی بیٹھی تھی ۔اسے ارشد پہلی نظر میں ہی پسند آ گیا تھا لیکن وہ اپنی زبان سے اظہار نہ کرنا چاہتی تھی ۔یہ لیں میرا وزٹنگ کارڈ اس پہ میرا نمبر اور ایڈریس ہے کوئی بھی کام ہو تو مجھے لازمی بتانا بس سٹاپ آ چکا تھا۔ نگینہ نے کچھ کہے بغیر کارڈ کو پرس میں رکھا اور اتر گئی ۔رشد بھی چلا گیا۔

نگینہ کی یہ رات بہت مشکل سے گزر رہی تھی نا جانے کیوں بے چین تھی۔۔۔ کیا جادو کر دیا ہے ارشد نے ،مجھے سکون کیوں نہیں آ رہا کیوں میرا دل بے چین ہے ایک نا محرم کے لیے کیوں میں تمھیں سننا چاہتی ہوں ان گنت سوالات نگینہ خود ہی خود سے پوچھ رہی تھی۔۔ نگینہ کی ہمت نہ ہو رہی تھی کہ وہ ارشدسے بات کیسے کرے گھر میں بس ایک موبائل تھا جو نگینہ بہت کم استعمال کرتی تھی نگینہ نے ہاتھ میں موبائل پکڑا کارڈ پر درج نمبر ملایا اور کال ملادی بیل کی پہلی گھنٹی بجی اور نگینہ نے کال کاٹ دی اُسنے ہمت پھر سے کی اور اب کی بار ارشد کی کال آ گئی لیکن نگینہ کال نہ اٹھا سکی اور کال کٹ گئی۔

۔ اب کی بار نگینہ نے پھر سے کال ملائی اس بار بنا دیر کیے کال دوسری طرف سے اٹینڈ ہو چکی تھی۔۔۔ ہیلو کون ہیلو ہیلو نگینہ کو ایسی چپ لگی کہ ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکلا اور موبائل بند کر کے سو گئی ۔


۔صبح جاگتے ہی سب سے پہلا خیال ارشد کا آیا اور موبائل آن کرنے پر میسج پڑھ کر خوشی اور حیرانگی بھی ہوئی۔۔ میں جانتا ہوں آپ نگینہ ہیں میری آواز اتنی بھی بری نہیں تھی کہ آپ بولی تک نہیں ۔


۔میں 8بجے آپکا بس سٹاپ پر انتظار کروں گا۔۔۔ نگینہ آج وقت سے پہلے ہی بس سٹاپ پر پہنچ گئی تھی۔۔ 

ارشد دیر سے آیا تھا نگینہ غصے کی حالت میں تھی لیکن کوئی بات نہ کی اور سیدھی ارشد کی گاڑی میں بیٹھ گئی ارشد نے رومینٹک سونگ پلے کر دیا ۔اور محضوض ہونے لگا۔۔ نگینہ نے گانے بند کر دئیے اور دیر سے آنے کی وجہ پوچھی۔۔ اب نگینہ خود کو پہلے کی نسبت ذیادہ مضبوظ سمجھ رہی تھی۔

۔ اسکی زندگی میں بھی کوئی خیال رکھنے والا آ رہا تھا۔۔ نگینہ کی عادت تھی کہ ذیادہ بولتی نہیں تھی مگر ارشد کے پاس نا جانے کدھر کدھر سے باتیںآ جاتی تھی نگینہ کو خوب ہنساتا تھا یہی وجہ تھی کہ نگینہ جو کسی کو بھاؤ تک نہ ڈالتی تھی مگر ارشد کے سامنے تمام ہتھیار ڈال چکی تھی۔۔۔ آپکو اپنا آفس دیکھاؤں ارشد نے سوالیہ نظروں سے نگینہ سے سوال کیا۔

۔ نہیں کالج سے دیر ہو رہی ہے اور میں کیوں دیکھوں آپ میرے کیا لگتے ہیں اور مجھے آج کالج جلدی پہنچنا تھا تب ہی آپکی گاڑی میں بیٹھ گئی ورنہ میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔۔۔ ارشد نگینہ کی معصوم باتیں سن کر دل ہی دل میں ہنس رہا تھا اور لبوں پہ مسکراہٹ لا رہا تھا ۔۔آپ مذاق سمجھ رہے ہیں ۔نگینہ نے ارشد کو دیکھتے ہوئے کہا ۔میری کیا مجال کہ آپکا مذاق بناؤ وہ تو میں آپکی معصومانہ باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔

۔ اچھا اچھا بس کریں کالج آ گیا ہے روکیں گاڑی ارشد نے بلا تاخیر گاڑی روکی اور اگلی بار ملنے کا پوچھا تو نگینہ نے کہا روز ملنا ضروری نہیں اور ویسے بھی روز آنے جانے سے عزت کم ہو جاتی ہے۔ایسا میری امی کہتی ہیں اور گاڑی سے اتر کر کالج چلی گئی ۔۔۔

ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا تھا اب نگینہ ماڈرن بنتی جا رہی تھی بلیک ٹائیٹ جینز اور شارٹ قمیض میں وہ کسی ہیروئن سے کم نہ تھی، ارشد اسے مالی سپورٹ کر رہا تھا اب گھر کے حالات بہتر سے بہتر ہو رہے تھے نگینہ کی پڑھائی مکمل ہو چکی تھی اور ارشد کے آفس میں جاب بھی کر رہی تھی اب ارشد جدھر بھی میٹنگ میں جاتا نگینہ کو بطور اسسٹنٹ ساتھ ضرور رکھتا تھا رات کو لیٹ آنا نگینہ کی روٹین بن گئی تھی۔

۔۔ نگینہ اپنے والدین سے ارشد کو ملوا چکی تھی ارشد نے بھی نگینہ کے والدین کو تسلی دے کر انکا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔۔۔ نگینہ کی قابلیت کی وجہ سے ارشد کو کافی فائدہ بھی ہوا تھا۔ ارشد اگر مصروف ہو تا تو نگینہ ہی کلائنڈ کو ڈیل کیا کرتی تھی۔ ارشد اب نگینہ کو اپنی وائف کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا ارشد نگینہ کی ہر وقت تعریفوں کے پل باندھا کرتا تھا نگینہ کے والدین کو اکثر فکر ہو اجاتی تھی۔

۔ نگینہ والدین کو بھروسہ مکمل دلوا چکی تھی ،اب روز کا معمول تھا کہ ارشد نگینہ کو ہر اس جگہ پہ لے جاتا تھا جدھر کا اسنے کبھی کواب دیکھا تھا ارشد نے اپنی والدہ سے بھی نگینہ کو ملوا دیا تھا نگینہ خو د سے ذیادہ اب ارشد پہ بھروسہ کرنے لگی تھی ۔

ارشد اب ہمیں شادی کی بات آگے بڑھا لینی چاہیے۔۔ نگینہ ارشد سے مخاطب تھی ۔ہاں مجھے بھی اب ایسا ہی لگتا ہے اچھا میں آج ہی اپنی امی سے بات کرتا ہوں دونوں بہت کھل کھلا کر ہنس رہے تھے کہ اچانک ارشد کو ایک کام یاد آگیا نگینہ چلو چلتے ہیں بات کرتے ہوئے ارشد نے نگینہ کی کی بات کو کاٹا نگینہ بھی بنا کوئی سوال کیے اٹھ کھڑی ہوئی ارشد بار بار پیچھے مڑ کر کسی کو تک رہا تھا ارشد نے نگینہ کو گھر پرڈراپ کرنے کے بعد اپنی پرانی محبت کو سوچنے لگا کیوں کہ وہ اب کسی اور لڑکے کے ساتھ اسی ہوٹل پہ آئی ہوئی تھی مرد اگر کسی عورت کو چھوڑ بھی دے تو تب بھی مردکے دل جلن ضرور ہوتی ہے ارشدکا بھی یہی حال تھا وہ اس لڑکی سے بہت ذیادہ محبت کرتا تھا مگر ارشد کی ایک حرکت نے اسکی پہلی محبت کو دور کر دیا تھا ارشد اسے بھی نگینہ کی طرح ٹریٹ کرتا تھا شاید نگینہ سے کم کرتا تھا ارشد کو وہ رات نہ بھول پائی جس رات اُس نے نشے کی حالت میں اریشہ کو اپنے گھر بلایا اریشہ نے یونیورسٹی میں پیپر کی تیاری کا بہانہ بنا کر ارشد کے گھر چلی گئی ارشد نے اسکی عزت کو اسی رات داغ لگا دیا تھا۔

اریشہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ تو اریشہ کو اپنی ماں سے ملوانے اور دو گنٹھے میں واپس بھیجنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہ تو ارشد نے اسے واپس جانے دیا اور نہ ہی ارشد کی والدہ گھر پر تھی ارشد نے بڑی بے رحمی اور نشے کی حالت میں اریشہ کو حوس کا نشانہ بنایا تھا اب اریشہ خود کو کوس رہی تھی ارشد نے نیم برہنہ حالت میں اریشہ کو چھوڑ کر باہر جا چکا تھا اریشہ ارشد سے بھیک مانگتی رہی مگر ارشد کو ایک لمحہ بھی خیال نہ آیا اریشہ بھی ایک مڈل کلاس طبقہ سے تھی ارشد کا یہ دوسرا روپ تھا مگر اسکے بارے میں نگینہ کو ایک پل کے لیے بھی شک نہ ہوا کہ ارشد کیسا ہے نگینہ چلاک نہیں تھی اور ارشد کو بھی ایسی ہی لڑکی تلاش رہتی تھی اب نگینہ کے والدین نے نگینہ کی شادی کی بات چلا دی نگینہ صرف ارشد کی ہونا چاہتی تھی نگینہ گھر میں خود بات نہ کر سکتی تھی ۔

۔۔بدلتے رشتے بیٹا ہمیں تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے نگینہ کے والدین نگینہ سے کئی دن سے بات کرنا چاہتے تھے مگر وقت نہ ملنے کی وجہ سے وہ بات نہ کر پاتے بیٹا پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ہمیں ایسا پیسہ نہیں چائیے جو ہماری بیٹی سے ہمیں دور کر دو نگینہ گردن جھکائے والد کی بات سن رہی تھی اور باپ کی آنکھوں میں آنسو صاف نظر آرئے تھے بابا آپ رو رہے ہیں اسکے والد کی آواز میں نرمی اس قدر نرمی اور جذبات شامل تھے کہ نگینہ انہیں گلے لگا کر چپ کرواتے ہوئے خود بھی رو پڑی بابا آپکو پتہ ہے آپکی بیٹی بہت کام کرتی ہے بہت محنت والی ہے ہاں ہماری بیٹی دنیا کی سب سے اچھی بیٹی ہے نگینہ کی والدہ نے نگینہ کو گلے لگا لیا اب تینوں لوگ بہت خوش بھی تھے اور اسکے والد نے نگینہ سے شادی کے حوالے سے بھی بات کر دی بابا بس 6 ماہ مزید مجھے نوکری کرنے دیں اسکے بعد آپ جیسا کہیں گئے وہی کروں گی اسی اثنا میں نگینہ کے والد نے اسکا ماتھا چوم لیا اور بے فکر ہو کر سو مگر نگینہ ارشد کے بارے میں سوچ رہی تھی اسکے دل میں کئی طرح کے وہم جنم لے رہے تھے کہ کہیں ارشد شادی سے انکار نہ کر دے.۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

Comments