Soda By Sumaira Hamed

 


یہ ناول انسان کی ازلی لالچ پر جو کہ نسل در نسل کسی نہ کسی روپ میں انسانوں میں پائی جاتی رہی ہے ،پر لکھا گیا۔ناول میں بتایا گیا ہے کہ انسان کیسے بعض اوقات اپنے قیمتی رشتوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے ۔سچ توں یہ ہے کہ ہم سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کا ”سودا“ تو کر ہی رہے ہیں نا؟؟ کہیں سچائی کا کہیں ایمان کا۔۔۔ کہیں اپنے انسان نہ ہونے کا ۔یہ ہی اس ناول کی کہانی ہے۔



” میری بات“

”حیات ممکن ہے“ میرا پہلا ناولٹ تھا اور ”سودا“ پہلا ناول، اور یہ میری پہلی کتاب ہے۔”حیات ممکن ہے“ ایک چھوٹے سے واقعہ پر جو کہ میرے علم میں آیا تھاپر لکھا گیا اور” سودا“ انسان کی ازلی لالچ پر جو کہ نسل در نسل کسی نے کسی روپ میں انسانوں میں پائی جاتی رہی ہے پر لکھا گیا۔ ”سودا“ ناول لکھتے ہوئے مجھے یہ ڈر تھا کہ شاید قارئین اعتراز اٹھائیں کہ کوئی باپ اپنی ماں اپنی اولاد بیچ سکتے ہیں لیکن میں نے یہ جانا کہ قارئین بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جو بیچتا ہے وہ باپ یا ماں نہیں وہ تو وہ انسان ہے جو خود کو اپنی خواہشوں کے ہاتھوں خرید کر بیچ ڈالتا ہے۔

”سودا“ ناول کو کلاسک بھی کہا گیا اور خوفناک بھی۔ جو بھی ہے اس کا لفظ لفظ معاشرے کے قلم نے لکھا ہے، معاشرے کی ہی تختی پر لکھا ہوا ہے۔


اس کے لفظوں کو میں نے معاشرے کی ہی تختی سے سمیٹا ہے، اور اسی سیاہی سے لکھا ہے۔ یہ ایک لکھاری کے ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ ہم سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کا ”سودا“ تو کر ہی رہے ہیں نا؟؟ کہیں سچائی کا کہیں ایمان کا۔


۔۔ کہیں اپنے انسان نہ ہونے کا۔

حیات ممکن ہے میں جرأت مند گوگی کا کردار میرا پسندیدہ ہے اور” سودا‘ میں چاند کا۔ قارئین کا کہنا ہے کہ یہ چاند ہی تھا جس نے نوری اور جاوید کو اس راہ پر ڈالا۔ میں یہ کہتی ہوں کہ چاند نوری اور جاوید کا آئینہ بنا، جس میں نوری اور جاوید کا اصل سامنے آیا۔ نوری اور جاوید مٹی سے بنے خاک سے بھی گئے۔

چند لفظ اور جملے لکھ کر کوئی لکھاری نہیں بن جاتا، میں بھی نہیں بنی۔

سودا کو پڑھئے اور مجھے اپنی رائے سے آگاہ کریں مجھے خوشی ہو گی اگر آپ اچھی یا بری رائے مجھ تک پہنچائیں گے۔


”او موری میّا مجھے معاف ہی رکھیو ، ہیجڑے تو یہ رہے…“ گونج دار آواز اٹھی ، انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا اور دونوں مہندی لگے ہاتھ عین اس کے منہ کے سامنے رکھ کر زور دار تالی بجائی ، ہتھیلی پر ہتھیلی دے ماری… کمال کی مار ماری… ساتھ ڈھول زور دار بجا…

اوموری میّا…

ڈھول…

تالی…

تینوں آوازیں ڈوب ابھر رہی تھیں ، زور پکڑ لیتی تھیں کان کے پردے پھاڑے ڈال رہی تھیں ، مسام در مسام تہہ در تہہ کھال میں سرایت کرتی جا رہی تھیں پھر بھی نفس کی اصل سے کہیں دور پرے تھیں۔

وہ بت بنی کھڑی تھی ، سرخ ریشمی جوڑے میں گہرا کیٹلا سنگھار کئے ، الجھے ملجھے بالوں کو کھولے دوپٹے کو کس کر کمر میں ایک گرہ اور ایک پھول باندھے وہ دونوں ہتھیلیوں کو طبل کی صورت پیٹ رہا تھا… وہ منادی کرنے والا ، وہ بھانڈا پھوڑنے والا کیسے جی جان سے تالی پے تالی پیٹ رہا تھا ، ایک پیر کو اٹھائے اس کے گرد گول گول گھوم کر ناچ رہا تھا۔


ارے او میّا… ارے سن ری…

وہ چلانے لگی… وہ ناچتا ہی رہا ، تالی کی آواز نے زور پکڑ لیا… ڈھول بلند بانگ سارے راز کھولنے لگا ، الجھے ملجھے بال… گہرا سنگھار ، گڈ مڈ ہونے لگے ، گول گول گھومتی زمین بھی اسی کے ساتھ پیر اٹھا کر ناچنے لگی۔

سن ری میّا… بدھائی کون لے اڑیا…

ادھر آ… دیکھ… بدھائی کون لے اڑیا…

اس کے گرد گول گول گھوم کر وہ چلانے لگا… جانے کس جہنم کا دروغہ تھا… بت بنی کھڑی نوری چلانے لگی ، خوف سے خاک کے ساتھ خاک ہونے لگی… چلاتی ہوئی ہی ہڑبڑا کر اٹھی۔

جاوید خراٹے لے رہا تھا

بدھائی کون لے اڑا؟

اس کی نظر جاوید پر ٹکی رہی۔

”ہیجڑے تو یہ رہے“

نظر جاوید پر ہی ٹکی رہی… وہ ہانپ رہی تھی تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔ سہم کر خود میں سمٹ رہی تھی۔ یہ گرو اس کی جان لے گا اسی ڈر سے وہ سوئی نہیں تھی آدھی جان نوری کی نکل چکی تھی اب پوری لے کر ہی وہ ٹلے گا ، رات کا پہلا پہر ہی گزارا تھا اور وہ ایسے ہانپ رہی تھی جیسے اپنی پیدائش کے دن سے ہی بھاگی پھر رہی ہو اور کائنات کے حشرات اس کے پیچھے اسے نوچ کھانے کیلئے لگے ہوں۔

وہ اٹھ کر باہر بھاگی چھوٹے سے لان میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ ٹھنڈی گھاس پر تپتے پیر رکھے ، رات جاڑے کی ہی تھی لیکن وہ سردی سے نہیں کپکپا رہی تھی۔

موری میّا…

اس نے سر تھام لیا حشرات اُسے نوچ کھا رہے تھے۔ “نوری“ کوئی اسے جھٹکے دے رہا تھا وہ بڑبڑائی کہ وہی آ گیا۔

”جا جا کر اندر سو“ جاوید جھنجھلایا ہوا سا کہہ کر چلا گیا اس نے خوف سے اندر کی طرف دیکھا۔

”وہ آیا کہ آیا“ اپنے کمرے میں وہ جا نہ سکی اسی کمرے میں جس میں ساٹھ ہزار کا بیڈ ، چالیس ہزار کی دو کرسیاں اور بارہ ہزار کا ایک چھوٹا سا سیاہ چمکدار پالش والا میز رکھا تھا۔ جس کے فرش پر بائیس ہزار کا یہ ذرا سا قالین بچھا تھا۔ سفید چمکتے ماربل پر گہرا سبز قالین اور بھی بہت کچھ تھا اس کمرے میں ، اس کی الماری میں ، جوتوں کے خانوں میں ، زیورات کے ڈبے میں ، اس سارے گھر میں ، کچن کی الماریوں میں ، فریج کے خانوں میں ، بہت جمع کیا تھا ان دونوں نے ، گھر بھر میں بہت کچھ تھا ، بہت کچھ ان کے پیٹ میں جا چکا تھا ، پیٹ سے سارے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا تھا… خون سے خون بنا تھا… گوشت سے گوشت بنا تھا… وہ کس کمرے میں جائے اور سو جائے؟ اس میں اُس میں یا اوپر والے میں یا کسی بھی کمرے میں چلی جائے’ نہیں وہ ہر جگہ ہے جہاں جہاں وہ سوئی ہے ، اگر وہ اڑ کر آسمان پر جا سوئی تو وہ وہاں بھی ضرور آئے گا اور وہیں تو آئے گا… ان کا گریبان چاک کرئے گا…

خوب دھائیاں دے گا… انہیں ہیجڑا کہنے والا…

دن کا اجالا پھیل رہا تھا وہ اندر آئی اور دونوں بچیوں کے بیڈ پر جگہ بنا کر لیٹ گئی دونوں کے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھ کر۔

بچے فرشتے ہوتے ہیں نا…؟ شاید کوئی فرشتہ انہیں بھی بچا لے… کس سے؟ نوری کو نوری سے… نوری کو نوری کے ہی شر سے…

”شر جو پھوٹ کر پھیل گیا ان میں“

شر جس سے انہوں نے پناہ نہ مانگی

نوری اور جاوید نے…

دونوں بہت سال پہلے اپنے گاؤں سے بھاگ آئے تھے۔ وہی ذات پات ، برادری ، غیر برادری کا مسئلہ۔ نوری کا ابا اس کا رشتہ کہیں اور پکا کر رہا تھا۔

نوری نے رات سے دن نہ ہونے دیا اور بھنک پڑے ہی اس نے جاوید کے کان بھرے اور وہ دونوں شہر بھاگ آئے۔۔ چھ سات ماہ درباروں کے مہمان خانوں میں سوتے جاگتے رہے۔ جاوید کام کرنے چلا جاتا رات کو وہیں آ جاتا ، دونوں نے نکاح کیا ایک بیٹی ہوئی اور دونوں ایک کمرے کے خستہ حال گھر میں رہنے لگے۔ کمرہ اتنا چھوٹا کہ ہاتھ اٹھاؤ تو چھت چھولو… بیٹھے بیٹھے چاروں دیواروں کو پکڑ لو ، بارش ہو تو کمرے سے ہی پانی بھر لو۔

پانی بھی گندی نالیوں اور گٹر کا… دونوں نوالے گن گن کر کھاتے ، محبت کیلئے قربانی دے رہے تھے، ایک وقت کا کھاتے تھے تو اگلے تین چار وقت بھوکے رہتے تھے۔ گاؤں کا فقیر شہر کے غریب سے بھلا ہوتا ہے ، گاؤں میں بھوکوں مرنے کی نوبت نہیں آتی۔ رحمت ہے اللہ کی خاص گاؤں والوں کے ساتھ شہر والوں کی طرح اناج نہیں گنتے۔

جاوید چار چار پراٹھے کھانے والا سوکھی روٹی سے بھی گیا ، دیسی مرغیاں کھانے والا قربانی کے گوشت سے بھی گیا۔

غربت بہت بری ہوتی ہے بری کیا غلیظ ہوتی ہے ، شیطان پر سارے الزام ایسے ہی تھوپ دیئے جاتے ہیں۔ شیطان کا اگلا نام غربت ہے۔ یہ جو انسانیت کی معراج کے قصے لکھنے والے ہیں نا یہ غریب نہیں ہیں ورنہ وہ ضرور طے کرتے کہ غربت میں شیطانیت ہی معراج ہوتی ہے۔

جاوید سبزی کی ریڑھی لگانے لگا گلی گلی محلے محلے پھیری کرتا… دو پیسے کی سبزی لینے آئی عورتوں سے لمبی لمبی باتیں کرتا ایک دن ایک زنانہ سا آدمی گھر لے آیا۔

”بھابھی جی سلام“ انداز بھی زنانہ تھا۔

”رشید ہے یہ“ جاوید بلاوجہ ہی مسکرائے جا رہے تھا سبزی منڈی جانے کی بجائے اسے اٹھا لایا تھا۔

رشید ذرا سا مسکرایا۔

رشید… کون رشید؟؟

رشید عرف چاند… رشید ولد… شیش ولد لاپتہ محلہ چوک چوبارہ…

”اتنی سی ہی ہے یہ تو“ اسے دیکھ کر رشید نے چٹکی بنائی دو انگلیوں سے

”تیرے پاس دو پیسے بھی نہیں کہ اسے کھلا سکے؟ جاوید اپنے پیلے دانتوں سے ہنسنے لگا۔

”چل تجھے منڈی لے کر چلوں“

جاوید رشید کے ساتھ جھٹ منڈی چلا گیا واپس آیا تو تازہ پھلوں کے کریٹ ساتھ تھے… دونوں اس پر ٹوٹ پڑے… حلق تک بھر لیا خود کو

چند دن گزرے تو وہ پھر آیا۔

”ہاں اب ٹھیک ہے… رنگت بھی نکھر گئی ہے“ جاوید کے کان میں سرگوشی کی۔

”پکی ہے نایہ…؟؟


جاوید نے سر ہلایا ”تو فکر ہی نہ کر تو باپ ضرور بنے گا میں تجھے باپ ضرور بناؤں گا۔“

سچی…؟ رشید چاند نے جاوید کی پیشانی چوم لی،کندھے پر ہمہ وقت دھرے چیک کے رومال سے آنکھیں صاف کیں اپنی۔ داڑھی نہیں تھی لیکن شیو بڑھی ہوئی تھی اسی پر لجاحت سے ہاتھ پھیرتا رہا… بائیں ہاتھ کو سینے پر باندھے رکھتا نیچے کی طرف جھکے لٹکایا ہوا سا۔ دائیں ہاتھ کو sتیز تیز چلاتا،اشارہ کرتا جیسے باتوں کے خاکے بنا رہا ہو،چال زنانہ نہ تھی بس انداز میں ہی کچھ جھک دکھائی دے جاتی۔

چند سال ہوئے وہ اپنی بنیاد چھوڑ چکا تھا۔ پہلے گاہک ڈھونڈتا تھا اب خود گاہکوں کی صف میں آکھڑا ہوا تھا۔ کرائے کے گھر میں رہتا تھا شاذہی گھر سے باہر نکلتا تھا… گز بھر لمبی زبان والے جاوید سے سبزی لیتے مڈبھیڑ ہو ہی گئی… ایک کی زبان چلی ایک کی کھلی… دونوں کی خوب بنی۔


چند ہفتے جاوید نے نوری کو بکرے کا گوشت کھلایا،دیسی مرغیاں،دیسی انڈے،پھل،دودھ… خشک میوے لاکر دیئے نوری رات دن اس طرح کھاتی کہ مانوں پھر کچھ ملے گا ہی نہیں… اور کیا معلوم ملتا ہی نا… وہ جمع کرنے کے حق میں تھی لیکن پیٹ میں،اتنا کچھ کھا کر وہ مردانہ ڈکاریں مارتی… جاوید کھی کھی ہنستا۔

”او بس… او بس…“ ایک دو …… جڑ دیتا۔

اس رات بھی نوری ڈکاریں مارنے کی تیاری کر رہی تھی،بکرے کے گوشت کی ہڈیاں بوٹیاں چبا رہی تھی۔

”رشید کو ایک بچہ چاہئے“ جاوید ران کی بوٹی کو دانتوں سے نوچ نوچ کر ایسے کھا رہا تھا جیسے آج بکرے کی ہر نسل ختم کرکے ہی اٹھے گا آج وہ سب کھا جائے گا۔ اس سب کچھ کھا جانے کے دوران بچے والی بات اس نے ایسے کی جیسے نوری کو منڈی میں سبزیوں کے بھاؤ کے بارے میں بتایا ہو۔

”میں نے کہا میں تجھے باپ ضرور بناؤں گا۔“ اس نے انگلی سے دانت میں پھنسی بوٹی نکال کر دوبارہ چبائی۔

”تو کیسے؟ نوری گوشت کھانے میں اتنی مگن نہ ہوتی تو ذرا حیران ہو لیتی۔

”ہم ہیں نا“ اس نے دائیں آنکھ ماری۔

کسی کا بچہ اٹھا کر دے گا اسے کیا؟

”کسی کا کیوں… یہ ہے نا“ جاوید نے اس کے پھولے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھا،نوری نے نان کے ٹکڑے کو پٹخا منہ میں دبی بوٹی تھوکی۔

”ہوش میں ہے تو جاوید؟“

”تجھ سے زیادہ ہی ہوش والا ہوں۔“

”کسے دینے کی بات کر رہا ہے تو؟“

”اپنے بچے کو؟؟“

”کون سے تیرے بچے ہیں جنہیں تو دے گا؟؟“

”یہ جو تیرے پیٹ میں ہے“ وہ بھلا مانس بکرے کی نسل کے در پر تھا نوری بھڑکی جا رہی تھی۔

”کُتی سمجھا ہے مجھے کہ بچے جنتی جاؤں اور تو اٹھا کر دے دے“

”نوری“ جاوید دھاڑا۔

”تیرا ہے یہ بچہ؟ تیرا اکیلی کا ہے؟ میرا ہے یہ بچہ…“

”تو اپنے پیٹ میں رکھتا نا“

الٹے ہاتھ کا تھپڑ پڑا نوری کے گال پر وہ بھڑک کر اٹھ کھڑی ہوئی“ کتے تو نے مجھے مارا؟؟

”ہاں مارا اور ماروں گا… سمجھتی نہیں،اگر تیرا باپ ڈھونڈتا آ گیا ہمیں تو تیرے وہ بھائی تو ہمیں دیکھتے ہی مار دیں گے۔“

تو؟ نوری پھنکاری۔

اری او پاگل نہ سر چھپانے کیلئے جگہ ہے نہ جی داری کیلئے روپیہ،میں نے تیرا ساتھ نبھایا کہ نہیں؟ تجھے بھگا لایا ورنہ تیرا باپ تو اس کتے کی شکل والے سے تیرا رشتہ کر رہا تھا“ تو؟ نوری کی آواز کی لے نہیں بدلی۔

”تو کی بچی،نالی سے بھی گندے گھر میں سڑ رہے ہیں گھر بدل لیں گے،بڑے شہر چلے جائیں گے رشید پورے پانچ لاکھ دے رہا ہے۔“

تازہ تازہ بکرے کا گوشت کھائی نوری حیرت سے گم سم ہو گئی آنکھیں کھل کر پھیل گئیں۔

پانچ لاکھ؟؟ نوری نے سوال کیا۔ جاوید دلیر ہوا

”جی ہاں جی پانچ لاکھ“ جاوید نے دیدے مٹکائے گاؤں میں تیری میری کرنے والی عورتوں کی طرح۔

”اور یہ سارے پھل فروٹ بھی وہی لا رہا ہے۔ یہ گوشت اور باڑے کا خالص دودھ… تو کیا سمجھی وہ مجھے یارانے میں کھلا رہا ہے؟“

نوری سوچ میں غرق ہو گئی۔

”وہ آدمی ٹھیک نہیں ہے۔“

”بڑا نیک ہے وہ“

رشید جاوید کو سب صاف صاف بتا چکا تھا،رہی نیک ہونے کی بات وہ تھا یا نہیں لیکن پانچ لاکھ میں اسے نیک بنا دینے میں جاوید کا کیا جاتا تھا۔

”بہت بھلا مانس ہے سچی“

”میں کیوں دوں اپنا بچہ؟؟“

”پھر وہی بات کی… اپنا اکیلی کا نہ بول میرا بھی ہے۔ پگلی،بات سمجھتی ہی نہیں یتیم خانے والے تو اسے گھسنے بھی نہ دیں بچے کیلئے بتا رہا تھا ایک دو جگہ گیا تھا،بہت گھن چکر بنا بے چارہ ایک تو پیسے لے کر بھاگ گئی،دو چار اور دھوکے ہوئے،کہتا ہے کسی ماں کی آہیں نہیں لوں گا۔

 ہاں جو ماں خوشی سے اس کی گود میں ڈال دے ورنہ ہزار بچے اسے… ادھر ادھر کسی کا بچہ نہ اٹھا لیتا… سمجھتی ہی نہیں،بڑا دکھی ہے نوری… کہہ رہا تھا اسے پڑھائے گا لکھائے گا ڈاکٹر بنائے گا،لڑکی نہیں مانگ رہا،لڑکا چاہیے،پائی پائی جمع کر کے رکھی ہے اس کیلئے،گھر بند کئے روتا تڑپتا رہتا ہے۔ بہت بھلا ہے ہزاروں مزاروں پر جاتا ہے،چادریں چڑھاتا ہے،اس دن اذان ہو رہی تھی بولا جاوید چپ کر جا اذان کے وقت نہیں بولتے۔

اب خود دیکھ لے کتنا نیک ہے۔ بڑا دلارا ہے قسم سے کیا تو اور میں ایسے نیک ہیں؟ تو نے تو کبھی خود نماز نہیں پڑھی پھر پیسے والا بھی ہے اچھی طرح سے بچہ پالے گا… شہزادوں کی طرح رکھے گا۔ تڑپ اٹھتا ہوں میں اس کے دکھ سن کر،انسان ہوں میں بھی رونا آتا ہے اس کا حال سن کر…“

جس وقت رشید جاوید کے ہاتھوں نیک ثابت کیا جا رہا تھا ٹھیک اسی وقت رشید ہاتھ جوڑے دربار میں کھڑا تھا۔

پہلے اس نے چادر چڑھائی پھر اس نے پھول پھینکے پھر اس نے تبرک تقسیم کیا اور پھر ہاتھ جوڑ کر ایک ٹانگ پر کھڑا ہونے جیسا ہو گیا اور گھنٹوں کھڑا ہی رہا وہ ظاہر کے کس حال میں ہے یہ خیال جاتا رہا وہ باطن کے جس ہیر پھیر میں تھا یہی احساس غالب رہا۔

”میری بھی تو آس کوکھ خالی ہے“

ہر خواہش ایک کوکھ ہوتی ہے صدیوں بانجھ رہنے والی عورت کی کوکھ جو زمین و آسمان ہلا دینا چاہتی ہے لیکن کوکھ کو بھر لینا چاہتی ہے یہی کوکھ ہر انسان کے اندر اپنی اپنی شکل میں کروڑوں بار جنم لیتی ہے سب اشکال جدا تو رشید کی بھی جدا…

”کورا کھوکھلا مرد ہوں تو کیا،چاند ہوں تو کیا… ٹیسیں اٹھتی ہیں،ان ٹیسوں کو سرور دلانے کا من کرتا ہے،سینے سے لگانے کا۔

میاں کی میں نہیں کرنے والا… میری کون کرے گا؟ میری بھی کوئی نہ کرے… لہر میں جھوم جانا چاہتا ہوں…“ وہ سسکنے لگا وہ جھوٹ بول رہا تھا۔

اس کے پاس کوئی بڑی دلیل نہیں تھی خدا کو دینے کیلئے،ایسی دلیل جسے التجا میں شامل کیا جاتا کہ التجا پُراثر بن جائے،یکدم اس نے ہر دلیل کو پرے پھینکا۔

”کچھ اور مانگا تو منہ کالا ہو میرا،مسجد بھیجوں گا اسے داڑھی رکھے گا حاجی بنے گا قسم پنج تن پاک کی،واسطہ ہے پیر و مرشد کی… اسے اپنی راہ ضرور بنا رہا ہوں پر اس پر جان نثار کر دونگا… اسے تیری راہ والا بنا دونگا… قرآن کھول کھول کر پڑھے گا…“

وقت گزرتا رہا رشید وہیں ہاتھ جوڑے کھڑا رہا وہ ہاتھ جوڑے کھڑا تھا ہاتھ پھیلائے نہیں وہ مانگ نہیں رہا تھا وہ التجا کر رہا تھا حق سے مانگنے اور التجا میں بہت فرق ہے یہ فرق بہت خاص ہے۔

دعا بہت بڑا مان ہوتی ہے رشید نے خود کو اس مان کے قابل نہ سمجھا،گاہکوں کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرنے والے نے خود کو اس مان کے قابل نہ سمجھا۔ کوئی دیکھ لے اور پوچھ بیٹھے کہ اتنی دیر سے بت بنے کس جوگ کا روگ لئے کھڑے ہو تو؟ رشید کیا بتائے کہ ”ماں بننا چاہتا ہوں اور باپ بھی… دل کا ارمان ہے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتا ہوں… شادی کے قابل نہیں،باپ بن نہیں سکتا پھر بھی بچہ چاہتا ہوں۔

چند سال ہوئے اس نے لاہوری کوٹھا چھوڑا تھا۔ بڑا گھاک دلال تھا رشید چاند… گاہکوں کو ایسے گھیرتا جیسے گڑ آپو آپ مکھیاں گھیر لیتا ہے… تازہ تازہ پر پرزے نکالتے اس کا جھوٹا پانی پیتے اس کے ہاتھ سے نمک چاٹتے،نائیکہ بھر بھر بنک میں پیسے رکھواتی رشید چاند کی بلائیں لیتی۔

اب رشید کے کانوں میں اسی نائیکہ کی بیٹھی بیٹھی پھٹی ہوئی آواز گونجتی تھی،گاہکوں کی بھرمار اور ایسی باتیں جو وہ سن چکا تھا اور کہہ چکا تھا اور جو ان کیلئے کہنی سنی جائز اور دوسروں کیلئے غلیظ ترین گردانی جاتی تھیں اسے ہر پل سنائی دیتیں۔

گھوم گھوم کوٹھا اس کے سر پر سوار ہوتا بازاریوں کی بازاری اندر باہر ہونے لگتی… اسے کوئی چاہئے تھا کہ اسے اس بازار سے نکال لاتا… اتنا پاگل بھی نہیں ہو گیا تھا لیکن بہت کچھ بدل گیا تھا،زندگی بھر دلالی سے لگا رہا اب خواہش سے لگ گیا تھا جو کام نہیں کیا تھا اب وہ کرنا چاہتا تھا اولاد والا بننا چاہتا تھا۔

رات دن گھر میں بند رہتا،اٹھ جاتا تو معلق ہو جاتا،سو جاتا تو کھو جاتا،ہوش میں آتا تو رونے لگتا اس کا حال برا تھا برے حال سے ہی زندہ تھا۔


رشید کے گھر کا دروازہ بج رہا تھا،ٹانگیں پسارے دیوار کے ساتھ سر ٹکائے پڑا تھا ،منہ اور آنکھیں صاف کرکے اٹھا۔

”مان گئی بھابھی جی؟ جاوید پر نظر پڑتے ہی جھٹ پوچھا بھابھی جی کو مناننے کیلئے ہی تو اندر اتنے جتن سے بین ڈال رہا تھا۔“

”مان جائے گی تو فکر نہ کر،ورنہ میں اسے گاؤں بھیج دونگا۔“

”نہ… نہ… ایسا نہ کرنا… نہ کبھی نہ…“

”تیرے پاس پیسے ہیں بھی کہ نہیں؟“ جاوید کی آنکھیں سکڑیں” چیک بک دکھاؤں؟“

”ہاں!“ جاوید چیک بک دیکھ کر ہی ٹلا۔

”بڑا پیسہ ہے نوری اس کے پاس دو دو بنکوں میں پیسے رکھے ہیں۔“

”تو؟ نوری کو کوئی اور سوال ہی نہ کرنا آیا اب تک یہ تو بار بار تو تو کسے سنائی ہے؟ جاوید چیک بک دیکھ آیا تھا اب بھی نہ بھڑکتا۔


”تو کیا کرؤں؟ وہ رونے لگی“ نہیں دل مانتا،خراب آدمی ہے نہ جانے اسے کیا سے کیا بنا دے… پھر بھی کیوں دوں اسے اپنا بچہ… ضروری ہے کیا؟

”پگلی ابھی تک نہیں سمجھی؟ ہمارے پاس ہے کیا؟ دوسرے بچے کو کیسے پالیں گے،یہ گڑیا کی طرف دیکھ،شہر میں رہ کر بھی تجھے عقل نہیں آئی یہ جو بارشوں میں کیڑے نکلتے ہیں نا ان جیسی ہے اپنی یہ گڑیا،شہریوں کے بچے دیکھے ہیں کبھی؟ یہ محلے والے ہمیں منہ نہیں لگاتے چوڑے سمجھتے ہیں ہمیں،میں دکان کھول لوں گا گروی پر ایک اچھا گھر لے لیں گے یہ بچہ دن بدل دے گا ہمارے،چار وقت اچھا ہم بھی کھا لیں گے،ابھی تو یہ دنیا میں آیا بھی نہیں تجھے کہاں کا انس ہو گیا اس سے… پگلی وہ اسے پڑھائے گا لکھائے گا کیا ہم پڑھا سکیں گے اسے ہم تو کھلا بھی نہیں سکیں گے،سوچ پگلی یہ خود بھی کھا لے گا ہمیں بھی چار نوالے کھلا دے گا۔

 نوری چپ ہی رہی،آج کل اسے کھانا نہیں پکانا پڑتا تھا جاوید روز بازار سے ہی لے آتا تھا ہر طرح کے گوشت ہی آ رہے تھے،مچھلی،تکے،کباب… کڑاہی،روسٹ،کوفتے،پالک گوشت،قیمہ بھرے نان… ہزار قسمیں تھیں گوشت کے پکانوں کی،وہ دن گئے جب دونوں کو نمک کے ساتھ بھی روٹی کھانی پڑ جاتی تھی اب ذرا تیز نمک والا گوشت ایک طرف کر دیتے تھے کہ کڑوا ہے،نوری کبھی کبھار ادھر ادھر کے گھروں سے بچا کھچا سالن لے آتی تھی پھر محلے والوں نے جو سالن پھینکنا ہوتا وہ انہیں دے جاتے وہ سونگھے بنا کھا جاتے۔

چند ہفتوں بعد بارش ہوئی آس پاس کے گٹر بھر کر ابلنے لگے،انکے گٹر جتنے گھر میں غلیظ پانی بھر گیا،بدبو متلی سے نوری مرنے کے قریب ہو گئی کیا کچھ نہیں بہہ رہا تھا اس پانی میں،توبہ،توبہ… اب اس بدبو اور غلاظت میں گزارا نہیں ہوتا تھا پیٹ میں جو جو کچھ بھر بھر کر ڈالا تھا باہر آنے کو تھا۔

رشید آیا دیکھ کر چلا گیا پھر آیا سامان نکال کر باہر رکھا،سامان بھی کیا دو چارپائیاں اور چند برتن،دونوں کو لے کر ایک خالی گھر میں آ گیا دو کمروں کا صاف ستھرا گھر تھا،سامان وہاں لاکر جمایا۔

”خوش بھابھی جی؟ پہلی بار نوری سے ہی بات کی تھی نوری نے سر ہلا دیا۔“

”دو ضرورت مند اکٹھے ہو گئے رشید اور جاوید“

جاوید نے سبزی کی ریڑھی لگانی ہی چھوڑ دی رزق گھر بیٹھے ہی مل رہا تھا باہر نکل کر کمانے کی کیا ضرورت تھی۔ تھا ہی نکما جاوید اس کے بھائی گاؤں میں جانوروں کی طرح رات دن کام کرتے اور وہ ادھر ادھر تانک جھانک میں رہتا،اب کہاں کا کام؟ رشید کھلا رہا تھا انہیں۔

شروع شروع میں جاوید ایک چھوٹے ہوٹل میں رات دن برتن دھونے پر لگا تھا پھر ٹیبل مین بن گیا،بھاگ بھاگ کر ایک سے دوسرے میز تک جاتا،خالی جگ بھرتا،گندے میز گاہک کے جانے کے بعد صاف کرتا، آڈر پر آڈر لیتا… رات کو سوجھے ہوئے پیر لے کر گھر آتا دو قدم بھی چلا نہ جاتا اگلے دن پھر کئی سو قدم چلنا پڑتا دوڑنا پڑتا…

”شہر کے لوگ“ جاوید گندی گالی دے کر کہتا ”سالے اتنا کام لیتے ہیں اور چند سکے پکڑا دیتے ہیں۔

اب ٹھیک تھا،لاہور شہر کی ہیرا منڈی کا دلال رشید اسے لاکھوں تھما رہا تھا… اب ٹھیک تھا سب۔“

رشید آ جاتا تو نوری کو دیکھ کر خفا ہوتا۔

”پرے ہٹو“ جھاڑو چھین کر خود لگانے لگتا،برتن دھو جاتا،بستروں کی چادریں جھاڑتا،جاوید موڑھے پر بیٹھا دانتوں میں تیلی پھیرتا رہتا اور مسکرا مسکرا کر نوری کو چڑاتا۔

ایک بار آیا تو جوسر لے آیا کہ تازہ تازہ جوس نکال کر پیئو،نوری سے زیادہ جاوید جگ بھر بھر پی جاتا،دودھ میں کیلے ڈالو،آدم ڈالو جو جی میں آئے ڈالو گھماؤ اور پی جاؤ ،جاوید کو گھمانا آ گیا اب سب کچھ گھومنے گا۔

”بھابھی جی کے پیر دبا دے“ ایک دن رشید جاوید کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جاوید گلا پھاڑ کے ہنسا۔

”جا تو دبا دے یہ کام بھی تو کر دے“ رشید کو سانپ سونگھ گیا۔

”اب کے کہا تو زبان کھینچ لوں گا قسم پنج تن پاک کی“

جاوید سچ مچ ڈر گیا۔

”بازاری تو میں ہوں پر لگتا ہے نتا تو بھی نہیں“

جاوید اندر تک بھڑک اٹھا لیکن پانچ لاکھ کا سوچ کر چپ رہا،چپ رہنا پڑا ورنہ اتنی بڑی بات پر ہاتھ پکڑ کر باہر کرتا،کنڈی لگاتا،آرام کرتا لیکن کمینی ہنسی ہنس کر چپ رہا۔

خالص دودھ،تازہ جوس اور ملک شیک پینے والی نوری پانی پیتی تو متلی ہوتی،دال روٹی کا سوچتی تو دل باہر کو آتا،پکا پکایا آ رہا تھا چولہے کے پاس جانے کا خیال بھی نہ آتا۔ جاوید گھر ڈھونڈ رہا تھا تین لاکھ میں سودا ہوا رشید نے جھٹ تین لاکھ نکال کر پکڑا دیئے۔

نوری جاوید کو کبھی نفرت سے دیکھ ہی لیتی رشید کو نہ دیکھا جاتا،ایک دن تعویز لے آیا… گلے میں پہننے کو،نوری نے پہن لیا… جمعرات کے جمعرات مزار پر لے جاتا نوری کے ہاتھ سے تبرک تقسیم کرواتا،مزار کی دہلیز پر رکھا نمک نوری کو چاٹنے کیلئے کہتا،ہر بار دربار کی جالی میں دھاگا باندھ آتا،جانے کہاں کہاں سے دم شدہ پانی لاکر اسے پلاتا وہ اس ذی روح کی طرح ہو گیا جو آسمان کی اور بے قراری سے دیکھے جاتا ہے،بے چینی سے اس دھانے کو کھوجتا ہے جس میں سے اس کی جھولی بھری جاتی ہے آسمان کو شک ہونا ہی ہے اسے شک ہونا ہی پڑے گا… وہ جھولی اٹھائے گھوم گھوم کر اس دھانے کو کھوج رہا ہے… رو رہا ہے،تڑپ رہا ہے۔

ایک جمعرات نوری زنانے حصے سے دعا مانگ کر مردانے میں جاوید کو ڈھونڈنے آئی،احاطے میں کونے میں لگے درخت کے نیچے وہ دونوں ٹانگیں پھیلائے درخت کے تنے سے سر ٹکائے مردوں کی طرح پڑا تھا آنسو گریبان میں جذب ہو رہے تھے۔ دو چھوٹے بچے اس سے چند قدم دور کھڑے اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ بندر تماشہ کر رہا ہو اور اس تماشے میں بندر وہ ہو،ذرا ذرا دیر بعد ہوا میں ہاتھ گھمانے لگتا… نوری اس کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی… غوں غاں کی آوازیں بھی نکال رہا تھا… منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔

”رشید بھائی“ نوری نے ڈرتے ڈرتے آواز دی جتنا اسے رشید پر ترس آیا اتنا ہی وہ ڈر گئی۔ رشید بھائی بدستور معلق ہی رہے۔

”رشید بھائی“ نوری نے آواز ذرا تیز کی ذرا سا جھک کر اس کا شانہ ہلایا… ذرا دیر لگی رشید چونک کر اپنے آپ میں آیا اسے ایسے دیکھا جیسے شرمندہ ہو اور اگلی نظر بے حد شرم لئے ہوئے تھی۔

”اونگھ نے جھپٹ لیا تھا“ وہ کھوکھلی ہنسی ہنسا۔

کھلی آنکھیں اور اونگھ،نوری کا جی چاہا اپنے پلو سے اس کی آنکھیں پونچھ ڈالے… اس کے سر پر وہ تھپکی دے جو اسے سکون کی نیند جگا دے۔

جس کمرے میں نوری پڑی کراہ رہی تھی اسی کمرے کی چھت پر رشید ہاتھ جوڑے لڑکے کیلئے التجا کر رہا تھا کبھی وہ ایک ٹانگ اٹھا لیتا کبھی ہاتھ چھوڑ جھولی اٹھا لیتا۔

رات کا دوسرا پہر تھا جاوید نے رشید کو آواز دی۔

”تیری مراد بر آئی“ جاوید آواز دبا کر چلایا۔

”میری مراد بر آئی“ رشید ہچکی دبا کر شکر بجا لایا،بھاگا نیچے۔

”جانکل جا دوبارہ کبھی ہمیں اپنی شکل نہ دکھانا“

پاک ناموں کا ورد کرتے ہوئے رشید نے اپنے بازوؤں میں بچے کو تھام لیا اور سینے سے لگائے اپنے گھر کی طرف بھاگا۔ وہ سارے انتظام پہلے ہی کر چکا تھا بچہ لیتے ہی شہر سے نکل گیا۔

###

نوری کئی دن خاموش سی رہی ریت نبھا رہی تھی یا رسم وہی جانتی تھی چند دن اس نے اس کھیل کو کھیلا،چلنے پھرنے لگی تو جاوید اسے اپنے ساتھ بازار لے گیا جس چیز پر ہاتھ رکھا وہ لے کر دی۔ فریج،ٹی وی،بیڈ،میز کرسی،کپڑے،برتن،سب مل گیا،اپنی سکینڈ ہینڈ موٹر سائیکل پر جاوید اسے لئے گھومتا،بازاروں میں ہوٹلوں میں،پارکوں میں،نئی نئی چیزیں کھلائیں،نوری نے کبھی سمندری جھینگا نہیں کھایا تھا وہ تک کھا لیا نوری شیر کا گوشت کھانا چاہتی تو جاوید اس کا بھی سوچ لیتا ارادوں کا پکا تھا جاوید۔

نوری دنوں میں ہٹی کٹی ہو گئی روز نئے نئے کپڑے پہن لیتی رات کو چند بار رو لیتی،پھر خود ہی چپ کر جاتی،شاموں اور دوپہروں میں آہیں بھرتی جاتی اور سیب کیلا کھائے جاتی اور جلدی جلد چکنے فرش پر گیلا کپڑا لگائے جاتی۔

شیشے کے سامنے بیٹھتی آنکھوں کے گرد حلقے دیکھتی منا یاد آ جاتا اور پھر کوئی نا کوئی کریم اٹھا کر منہ پر لگا لیتی۔

رشید نے پانچ لاکھ کا کہا تھا پورے آٹھ لاکھ دے کر گیا تھا۔ اتنا مہنگا گوشت کا لوتھڑا خرید کر لے گیا تھا، پاگل ہی تھا۔

منے کی پیدائش کے تین دن بعد ایک ٹولہ ان کے گھر آن دھمکا۔ جاوید نے تو صاف انکار کیا کہ ان کے یہاں کوئی بچہ وچہ نہیں آیا کہاں منہ اٹھائے چلے آ رہے ہو… کہیں اور دفعان ہو جاؤ۔

گرو بھڑک اٹھا یہ زور سے تالی پیٹی“ اے لو جی… پیسے دھیلے پر سواہ ڈال بچے سے ہی انکاری ہو رہا ہے… اے بابو ہم پکے کام کرتے ہیں لاؤں کیا اس دائی کو تیرے منہ پر… پھر بولے گا کوئی بچہ وچہ نہیں ہے… بول بانکے سجیلے بولے گا کہے گا کہ بچہ نہیں ہے… کیسا باپ ہے رے تو… ہاے موری میّا… کیسے منہ پھاڑ کر کہہ رہا کوئی بچہ نہیں ہے… ذرا آواز اس طرف کو منہ کرکے نکال آس پڑوس اکٹھا کر… دادا نانا تو یہاں کوئی نظر نہیں آ رہا دو پیسے محلے والے ہی دے دیں گے۔

”میں کہتا ہوں نکل یہاں سے سنا نہیں تو نے؟ نہیں نچوانا ہمیں تمہیں… نکلو یہاں سے ہیجڑوں…“ جاوید نے جھک کر گھنگھرو باندھتی چٹکی کو لات ماری وہ دھڑام فرش پر گری ”اے“ چٹکی نے گالی دی تیوری چڑھی اور لپک کر اس کی گردن دبوچنے کے درپے ہوئی۔

”اے پرے ہٹ چٹکی… آئے ہائے… اے بابو…“ گرو بھڑک اٹھا،ہتھیلی پر ہتھیلی یہ زور سے ماری چٹکی بھی شامل ہوئی ڈھولکی استاد بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا سب زور زور سے تالیاں پیٹنے لگے۔

تالی کا یہ ردھم ہیجڑے غم و غصے،دکھ اور سوگ میں جگاتے ہیں۔

”بابو بانکے سجیلے بیٹھے بٹھائے بچہ نگل رہا ہے“ وہ صحن سے اندر کمرے میں جانے لگا جاوید نے لپک کر اسے پرے دھکا دیا۔ چٹکی پھر دیوار کے ساتھ جا لگی دھکا کھا کر گرو بدلے میں جاوید کو پرے پھینک کر اندر کمرے میں گھس گیا۔ نوری چارپائی پر لیٹی تھی اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکی۔ تالیوں کی گونج کمرے میں پھیل گئی دروازے میں جاویڈ ڈھولکی استاد سے الجھ رہا تھا ہٹا کٹا استاد جاوید کے گلے پڑ رہا تھا۔

”اے چٹکی یہ رہی زچہ… اے بی بی خدا مبارک کرے“ گرو نے دونوں ہاتھوں سے نوری کی بلائیں لیں۔


”ذرا چاند کے ٹکڑے کے درشن تو کرواؤ،آٹا چینی،چادر منے کا ہاتھ لگوا کر دے دیو،یہ تیرے والا تو بھڑکی جا رہا ہے ،ہمارا بھی حق ہوتا ہے،ناچ لیں گے گا لیں گے ہزار پانچ سو لے کر چلے جائیں گے ،اے ہے چٹکی چل شروع ہو یہ رہی زچہ لا بھئی دے بچہ گود میں بیٹھا کر ایسی لوری دونگی سارے رونے بھول جائے گا… گوری کے ہاتھوں میں کھیل لیا تو سدا ہی کھیلے گا،راج کرے گا راج تیرا سپوت… لا دے…“

”نہیں ہے منا“ نوری سے کہا ہی نہ گیا کہ مر گیا منا،جس طرح نوری چلائی ایک پیر کو اٹھائے دوسرے کو گھومائے ناچ کرتی چٹکی ہاتھ پیر روک کر اسے دیکھنے لگی،گرو کو تو آگ لگی خوب لگی ہاتھ بڑھا کر نوری کا بستر ٹٹولا،گڑیا ڈر کر رونے لگی۔

جاوید گالیاں نکال رہا تھا ،نوری بستر میں دبکی جا رہی تھی اسے گرو سے ڈر لگ رہا تھا۔


”اے بی بی بچہ دے کہاں ہے؟“ گرو کی اصلی تیز آواز اب نکلی نوری کا رنگ فق ہو گیا۔

”لڑکا ہوا ہے گھر سونا پڑا ہے نہ کوئی دادی دادا نہ نانی ماموں اتنے بھی غریب نہیں لگتے“ اس نے ہاتھ لہرا کر درو دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

”دو دن پہلے رات کو بچہ آیا پیارا سا چاند سا منا ،اب کہاں گیا… بابا رات گئی بات گئی بچہ کیوں گیا؟ اے چٹکی پتا کر کہاں گیا منا،کہاں چھپایا ہے چاند؟؟ چٹکی جھٹ چارپائی کے نیچے جھک گئی۔

”یہاں تو نہیں“ چٹکی نے دونوں بھنویں مٹکائیں انگلی کو تھوڑی پر رکھا،ہاتھ کا انگوٹھا لہرایا۔

”کہاں گیا؟“ تالی پر تالی زور دار بجی۔

”اے منے تو ہی بول کہاں چھپا ہے… ارے او منے… اے منو… آجا میرے لال…“

نوری کے کان پھٹنے کے قریب ہو گئے اس کا جی چاہا کہ وہ اس زور سے چلائے کہ اس کا دل پھٹ جائے اور وہ مر جائے۔ چٹکی اور گرو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

گڑیا کا رونا تیز ہو گیا نوری نے اسے بھی پچکارا چٹکی نے بڑھ کر گڑیا کو اٹھا لیا۔

”ہیجڑے ضرور ہیں بابو الو کے پٹھے نہیں ہیں“ گرو جاوید کی طرف گھوما جاوید ٹھنڈا پڑ گیا اندر آیا نرمی سے بولا۔

”اس کی بہن بے اولاد تھی وہ لے گئی۔“

”اور یہ اتنے دل گردے والی تھی کہ اپنا پہلا ہی بیٹا بہن کی جھولی میں ڈال دیا۔“ تالی بجا کر ہنسنے کا انہیں موقعہ ملا۔

“ دوسروں کو اولاد دینے والی بہت دیکھی ہیں جناب عالیٰ لیکن پہلا پھول کسی کو دیتے نہیں دیکھا چل آ اس کی بہن کے ہاں چلتے ہیں وہاں سے بدھائی دلوا ہمیں… چل آ…“ گرو نے جاوید کا بازو پکڑ کر گھسیٹا۔

”چل آ…“

”وہ دوسرے شہر رہتی ہے گوجرانوالہ“ جاوید ہکلا گیا۔

”چل ٹھیک ہے،اپنی برادری وہاں بھی بہتیری ہے تو پتا دے میری برادری بدھائی لیں گی۔

”بڑے حاجی نمازی ہیں وہ… تمہیں گھسنے نہیں دیں گے“ تالی بجا کر ہنسنے کا ایک اور شاندار موقعہ انہیں ملا۔

”حاجی نمازی سب ہمارے سجن… بدھائی دیتے کسی کو گناہ نہیں لگتا،سبھی گناہ ہم نے اپنے سر لے لئے ہیں تو بے فکر ہی رہ… پتا لکھ یہاں…“ اس نے ہاتھ آگے کیا۔

”نکل یہاں سے کتے…“ جاوید پھر بھڑک اٹھا ان کا کیا لیا… گرو اس سے زیادہ بھڑک اٹھا اپنی پاٹ دار آواز میں دہائیاں دینے لگا… تالیاں پیٹتا صحن میں آ گیا اور چلا چلا کر منا منا کرنے لگا۔

”کھا گئے… دبا گئے… دفنا گئے… جلا ڈالا یا بیچ ڈالا… کہاں گیا منا… او موری میّا ہیجڑے تو ہم بدبخت ہیں۔ یہ بدھائی کون لے اڑا؟ کون کھا گیا گوری کی بدھائی؟ کس کے پیٹ میں گئی بدھائی،چیل کوے لے اڑے… گدھ نوچ کھائے… تو بول میّا کہاں گیا تیرا منا“ وہ نوری کی طرف لپکا۔

نوری کی گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔

زچہ پر نحوست برس رہی ہے باپ پر پھٹکار پڑی ہے… منا ان کے ساتھ کیا کر گیا… جنازہ اٹھا نہ قبر بنی… منا کہاں ہچکیاں روکے پڑا ہے… اے منے تو ہی بتا…“

استاد زمین پر بیٹھا ڈھولکی بجا رہا تھا گوری اور چٹکی صحن میں گول گول گھوم کر دہائیاں دے رہی تھیں سر کو مست ملنگ جھٹکے دے رہی تھیں… کھلے دروازے سے محلے والے اندر آ چکے تھے جو اندر نہیں آئے تھے وہ دروازے سے باہر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھ رہے تھے… آس پڑوس والے چھتوں پر بھی چڑھے تھے… جاوید نے سب کو نکال باہر کیا دروازہ بند کیا ذرا عقل سے کام لیا دو ہزار نکال کر گرو کے آگے کئے۔

”یہ لو اور جاؤ“

”بھیک لینی ہوتی تو ہیجڑے نہ بنتے“ گرو نے غصے سے جاوید کا ہاتھ جھٹکا۔

کیا سمجھا ہے تو نے ہمیں… گالی دیتا ہے دھکا دیتا ہے… ماں بہن کی کر رہا ہے… ہمیں ذلیل کر رہا ہے؟ بابو تیری دال میں بہت کچھ کالا ہے گوری کو بہت سے لوگوں نے ٹھڈے مارے دھتکارا پر تیری دھتکار گوری ہمیشہ یاد رکھے گی تجھے ہمیشہ گوری پھٹکارتی رہے گی… ان پیسوں کو اپنی اور اپنی جورو کی گودی میں رکھ،منا تو رہا نہیں جسے تو گودی میں لئے لئے گھومے… اے منے… اے چاند تجھے آسمان لے اڑا… زمین نگل گئی… کیا ہوا تیرے ساتھ… کہاں گیا وے تو…؟

منا منا کرتا وہ چلا گیا رات گئے تک گھر میں منا منا ہوتی رہی محلے والوں سے جان پہچان نہیں تھی لیکن باری باری بہانے بہانے سے سب آئے جاوید نے سب کو نکال باہر کیا،فساد وقفے وقفے سے چلتا رہا۔

پہلی فرصت میں گھر بدلا وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا پرچون کی دکان کھول لی۔ دکان پر ایک لڑکا دن بھر بیٹھا رہتا اور جاوید نے ایک سکول میں کینٹین کا ٹھیکہ لے لیا،اچھا خاصا بڑا سکول تھا،ٹھیک ٹھاک منافع ہونے لگا۔

جاوید کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑنے اور پھیلنے لگیں،گر سیکھ گئیں تھیں،جاوید رات گئے گھر آتا تو کھانے سے پہلے پیسے گنتا،نہانے سے پہلے کل آنے والے پیسوں کا حساب کرتا اور سونے سے پہلے پھر سے آ چکے اور آنے والوں کا حساب پاک کرتا… اس معاملے میں وہ سستی نہیں کرتا تھا اس معاملے میں وہ پکا تھا قائم تھا۔

نوری کوفتے بناتی یا کھیر… جاوید کو ہر چیز میں پیسوں کا ہی مزا آتا۔ اس کا ہاتھ پکڑتا مانو جیسے سونے کے پہاڑ کی ڈلی مٹھی میں لے لی ہو… دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش رہتے تھے… اچھا کاروبار بن گیا پیٹ تین وقت سے زیادہ بار بار بھرنے لگا۔ منے نے جہاں جانا تھا وہ تو چلا گیا،پہلا سودا ٹھکانے لگا۔

###

منافع تھوڑے سے زیادہ جمع ہو گیا تو اس نے ایک اچھے علاقے کے بڑے سکول کا ٹھیکہ لے لیا۔

گھاگ تو وہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ کینٹین سے سٹاف روم تک گھسنے لگا بلاوجہ کی علیک سلیک بڑھانے لگا۔ سارا وقت اپنے آپ میں ہی گم رہتا۔ بھاگ دوڑ میں لگا رہتا۔ اسے پیسہ کمانا آ گیا تھا اب جو گر سیکھ لیا تھا اسے زنگ تو نہیں لگنے دینا تھا نا،ہوٹلوں میں برتن دھوئے،ٹیبل مین بنے،گلی گلی سبزی کی ریڑھی گھماتے اس کی زبان کی کئی نوکیں نکل آئیں تھیں۔

آئے دن کھانا کھاتے سٹاف کی میڈموں کی باتیں کرتا،اس کی سنا اُس کی سنا… یہ بتا وہ بتا… نوالے ڈالے جاتا منہ چر چر چلائے جاتا۔

”چھ سال ہو گئے میڈم گوہر کی شادی کو“ پہلی رات کی بات۔

”یہ اونچی لمبی گوری چٹی میم صاحب…“ آنے والے دنوں کی بات۔

”امریکہ تک گئی علاج کروانے… بڑی نازک مزاج ہے بی بی صاحبہ چائے کے کپ سے ایک قطرہ بھی چھلک جائے تو چائے نہیں پیتی پرے کھسکا دیتی ہے… چلتی ایسے ہے جیسے راج پاٹ کی مالک ہو… اور بولتی تو ایسے ہے قسم خدا پاک کی کہ لٹ پٹ جانے کو جی کرتا ہے…“ کہہ کر جاوید ایویں ہنسا۔

”میڈم کی چائے تو بناتا ہے؟ نوری الٹی ہی بات پکڑتی تھی۔

”میں کیوں بنانے لگا سکول کا باورچی بتا رہا تھا“ جاوید جل بھن گیا مجال ہے یہ نوری کہ کبھی اشارے سمجھ جائے۔

”تو اس سے میڈم کی باتیں پوچھتا ہے؟“ نوری کو اپنے مرد کی پڑی تھی۔

”نہیں پاگل“ وہ چڑ گیا ”مجھے معلوم ہو جاتا ہے بہت کچھ آپو آپ ہی“ جھوٹ بولا اسے آپو آپ معلوم کرنا پڑتا تھا۔

”تو کیوں پتا کرتا پھرتا ہے اس کے بارے میں“ نوری جی جان سے جلی بیٹھی تھی۔ جاوید نے ہاتھ کا نوالہ پلیٹ میں پٹخا۔

”کیا سنے گی مجھ سے؟“

”کتنے پیسے دے رہی ہے وہ؟ نوری جم کر بولی نوری سبھی اشارے جان گئی تھی دونوں ایک ہی دھرتی کی خاک تھے۔ اک دوجے میں گڈ مڈ تھے۔

جاوید نے نوالہ اٹھا لیا سوچا کھا کر ہی بات کرے منہ کھول کر نوالہ اندر کیا آرام سے دانتوں تلے دبایا۔

”اتنی جلدی کا ہے کی ہے…؟“

منہ چلتا رہا… نوالہ پستا رہا۔

نوری اسے چار سال تک چھپا چھپا کر گھر کے گودام میں لاتی رہی تھی اس کی رگ رگ سے واقف ہوتی جا رہی تھی،اب اس کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔

”کہتی ہے گلشن اقبال میں تین مرلے کا ایک پلاٹ ہے“ جاوید کوئی ڈرتا تھا نوری سے۔ اسے تو بیچنے کے سبھی گرآنے لگے تھے۔ بچت کا اندازہ ہو چکا تھا،پیسے سے عشق ہو گیا تھا۔

پہلے بھوک تھی اب ہوس تھی،پہلے چھپا تھا اب کھل چکا تھا،نفس کے ساتھ تو تکرار کا وقت گزار چکا تھا اب تو اسے بیچ کھانے کا وقت آیا تھا۔ وہ پردے چاک کئے کھل کھلا چکا تھا۔

”کہیں دور پہاڑوں پر،گاؤں،قصبوں میں اور دور صحراؤں میں چھوٹی بڑی ڈھکی چھپی بستیوں میں رہنے والے بڑا سمندر سمندر کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں پہلے یہ بڑے سمندر کو دیکھیں گے تو کیسا لطف آئے گا۔

پانی سے پیر بھیگیں گے تو کیسا لگے گا۔ وہ رات دن سمندر سمندر ہی کرتے پھرتے ہیں،آہیں بھرتے ہیں،تگ و دو کرتے ہیں،آنے جانے والوں سے سمندر کا احوال پوچھتے ہیں۔ سمندری ہواؤں کا سوچ سوچ مست ہوتے ہیں…

پھر جب وہ خود سمندر کے کنارے تک آ جاتے ہیں تو خوف کھا جاتے ہیں متلی ہونے لگتی ہے سمندری ہوا بری لگنے لگتی ہے… سمندر منہ کھول نگل لینے والا نظر آتا ہے۔

اور کچھ جو سمندر سے خوف کھائے ہوتے ہیں وہ پانی میں ڈبکی پر ڈبکی لگا رہے ہوتے ہیں… بس یہی ہے انسان… جب تک دور ہے پتا نہیں کہ وہ کیا ہے… سمندر جو کہ وقت،زمانہ،حالات،خواہشات سے قریب جانے پر ہی پتا دیتا ہے کہ انسان کا اصل کیا ہے۔

جاوید گاؤں کا تھا شہر میں چھوٹے بڑے کام کئے… تب تک معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا ہے،رشید کے ملتے ہی دھل کر اصل ہو گیا۔

بہروپ سے روپ میں آ گیا۔

رشید کے بعد نوری کو بتائے بغیر وہ ایک اور گاہک کی تاک میں تھا۔ سکول کے ملازموں سے پوچھتا پھرتا تھا۔ یہاں وہاں بھی بہت زبان کے جال پھینک رکھے تھے کوئی تو پھنسے گا۔ ایک اور پھنس ہی گیا… میڈم گوہر…

ان کی بے اولادی کا پتا چلا تو اس نے باقاعدہ ان پر نظر رکھنی شروع کر دی،ان سے علیک سلیک بڑھائی،ان کے گھر تک جا پہنچا،عادت کی بہت اچھی تھیں،سکول میں وائس پرنسپل تھیں،جوان تھیں خوبصورت تھیں… اور سب سے بڑھ کر بہت بھولی تھیں۔

”یتیم خانے سے کیوں نہیں لیتی؟“ کیا سوال کیا تھا نوری نے،مطلب میری ہی دکان پر کیوں آئے ہو۔

”کہا تو ہے گند میں ہاتھ نہیں ڈالتی،حلال کا چاہیے انہیں“

جاوید ساتھ ساتھ آرام سے دل لگا کر کھانا کھا رہا تھا وہی بکرے کا بھنا گوشت اور فرائی مچھلی… کتنے آرام سے ”کاروباری“ باتیں کر رہا تھا۔

”تجھے شرم نہیں آتی؟ نوری کو کچھ شرم آ ہی گئی۔

”کاہے کی شرم… منہ میں زبان حلق میں ہاتھ ڈال کر کھینچ لوں گا… فائدہ اٹھاتی ہے میری نرمی کا…“

”ایک کا بھاؤ چکا لیا نا اب سب کو بھاؤ سے لگائے گا؟“

”ہاں! لگاؤں گا سب کا… بھلے کا کام ہے ضرور کروں گا… بھلا کرتا ہوں لوگوں کا،دل تڑپتا ہے ان کے دکھوں پر۔“

”بھلے کے نام پر پیسے کیوں لیتا ہے؟“

خوشی سے دیتے ہیں وہ… کمینہ نہیں ہوں میں،تو کیا جانے بے اولادی کا غم… تیری تو کوکھ ہری بھری رہتی ہے۔“

”اجڑ بھی جاتی ہے“ نوری کو پھر سے منا یاد آیا۔

”کہاں کا اجڑنا… عیش نہیں کر رہی؟“

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments