بڑے ہال نما لاؤنج میں وہ سات افراد آتش دان کے قریب بیٹھے تھے۔یہ اس گھر کا سب سے بڑا،گرم اور آرائشی حصہ تھا۔ آتش دان کے قریب ہی ایک طرف کھانے کی میز،دوسری طرف کاؤچ اور سامنے ٹی وی اور آتش دان کے عین سامنے کارپٹ پر فلور کشن پر آڑے،ترچھے،لیٹے بیٹھے وہ سب گپیں لگا رہے تھے۔ کچھ ہی دیر پہلے معاذ نے لڑکیوں کے نہ نہ کرنے کے باوجود ٹی وی بند کر دیا تھا اس کا خیال تھا کہ اس ماحول کو سائنسی آلات سے دور ہی رکھنا چاہیے۔
شاید وہ وکٹورین سردیاں انجوائے کرنا چاہتا تھا۔ وہ آتش دان کو تقریباً دس بار تعریفی کلمات سے نواز چکا تھا۔
”معاذ بھائی!جاتے ہوئے آتش دان اپنے ساتھ لے جایئے گا۔“ جرار نے بھرپور سنجیدگی سے کہا۔
”ہوں… سوچ رہا ہوں کراچی والے گھر میں بنوا ہی لوں۔
“ معاذ جرار سے زیادہ سنجیدہ تھا۔
”اسے جلائیں گے کب؟“ نمل حیران ہوئی۔
”جب موسم بدلے گا۔“
”موسم کب بدلے گا۔“
”ایک انگلش اخبار… کے مطابق دنیا کے موسم خطرناک حد تک تبدیلی کا شکار ہیں اور تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اس رپورٹ کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ کسی بھی دن موسم تیزی سے بدل سکتا ہے اور کراچی میں برف باری ہو سکتی ہے۔“
”آپ سنجیدہ ہیں؟“ حرا حیران ہوئی۔
”بالکل۔“ ان کے چہرے کے تاثرات بھی سنجیدہ ہی تھے۔
”چاہو تو وہ اخبار پڑھ لو۔“
”یہ ایک دیوانے کا سا سنجیدہ پن ہے۔ حرا!“ شامل گفتگو میں شریک ہوا۔
”شٹ اپ!“ معاذ کو نجانے کیوں غصہ آیا۔ ”دیکھ لینا ایسا ہو گا۔“
”ہم زندہ ہوں گے نا تب!“ شامل نے ہاتھ میں مونگ پھلیوں کو مسل کر معاذ کے منہ کے قریب لاکر پھونک ماری اور جھٹ سے منہ کھول کر ساری منہ میں ڈال لی۔
ایک ماہ پہلے معاذ کا دوست یہاں سے ہو کر گیا تھا۔
سبز پہاڑوں کے برف پوش پہاڑوں میں ڈھلنے کے قصے اس نے ایسے اور اتنے مزے لے لے کر سنائے کہ معاذ سے رہا نہ گیا۔ لاہور سے خالہ زاد شامل اور عفان کو ماموں زاد جرار،حرا اور نمل کو اور پنڈی سے مدیحہ کو جو اس کی سب سے چھوٹی خالہ کی پندرہ سالہ بیٹی تھی اپنے ساتھ ملا لیا۔
”سوچو یار! کتنے پاگل ہیں ہم، میں چھبیس سال کا ہونے والا ہوں اور اب یہاں آ رہا ہوں۔
“
”لیکن میں صرف اٹھارہ سال کا ہوں۔ میں آپ سے کم پاگل ہوں۔“ جرار نے دانت نکالے۔ جب سے وہ مری آیا تھا یا اس کے دانت بج رہے تھے یا نکل رہے تھے۔
”تمہیں لایا کون ہے یہاں؟ تمہارے ابا نے تو پورے دو گھنٹے کا لیکچر دیا تھا کہ جنوری میں مت جاؤ۔“
”ابا لوگوں کا یہی کام ہوتا ہے۔ چھوڑیے انہیں،میرا بتائیں۔ کیا میں نے کچھ کہا؟ اُف کی؟“
”تم نے کیوں اُف کرنا تھا،جیب تو میری خالی ہو رہی ہے۔
“
”تو اکیلے آ جاتے… یہ احسان و حسان مت جتائیں پلیز،اٹھارہ سال کے بچے کی جیب میں کتنے پیسے ہوں گے بھلا؟“
”اٹھارہ سال کے بچے کی جیب میں آئی فون ہو سکتا ہے،خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں۔“
”میں فری میں نہیں آئی،رہائش میری طرف سے ہے۔“ مدیحہ نے پستہ نکال کر چھلکا جرار کی طرف پھینکا۔
”واہ مدیحہ! کیا گپ ماری ہے،ماحول کو گرما دیا ہے۔
شامل اور عفان! ذرا کھڑکیاں تو کھول دو۔“
”کیوں… کیوں؟“ مدیحہ چِڑ گئی۔
”پہلے تمہارے پاپا کو لمبی تمہید کے بعد میں نے یہ بات یاد دلائی کہ ان کے بھائی اور تمہارے چچا کا ایک عدد گھر ہے نیومری میں،جسے تمہارے چچا ریسٹ ہاؤس کہتے پھرتے تھے۔ ایک لمبی ”ہوں“ کے بعد جس میں ناگواری شامل تھی،تمہارے پاپا کو یہ ریسٹ ہاؤس یاد آیا اور تمہارے چچا جو عشاء کے بعد موبائل آف کر دیتے ہیں،بمشکل تمام ان کے گھر چار افراد سے رابطہ کرکے ان کا موبائل آن کروایا۔
“
”تو آپ ان چاروں میں سے کسی ایک کو کہتے ناکہ چچا جان سے بات کروا دیں۔“جرار،مدیحہ کے چچا سے متعلق گفتگو ہمیشہ بہت انجوائے کرتا تھا۔
”ان چاروں میں سے کوئی بھی اپنا موبائل اپنے پاپا کو ضرورتاً بھی دینے کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔“ معاذ نے ایک آنکھ دبا کر جرار کو وضاحت دی۔
”مل تو گیا نافری میں ریسٹ ہاؤس۔“ مدیحہ اترا کر بولی۔
”ہاں مل گیا،ایک لمبی ہدایات،ضروریات،اختیاطات،امکانات،تمکنات“
جرار نے رک کر سانس لیا۔ ”اور فضولیات کی لسٹ سننے کے بعد۔“
مدیحہ کے علاوہ سب دل کھو کر ہنسے۔ جرار بلاوجہ دیر تک ہنستا رہا۔
ریسٹ ہاؤس قدرے نشیب میں تھا۔ پہلے ایک ڈھلان پتلی سڑک،پھر چار بڑی اور کھلی سیڑھیاں،پھر کچا پکا راستہ،پھر چھ عدد سیڑھیاں،پھر کچا پکا راستہ اور کنارے پر مزید دس قدم سیڑھیاں اُتر کر تین کمروں کا یہ نیلی چھت والا ریسٹ ہاؤس،اوپر سڑک سے تو ریسٹ ہاؤس نظر بھی نہیں آتا تھا۔ گاڑی پارک کرکے اپنا سامان باہر نکال کر سب سے پہلے جرار نے سڑک سے گھر کی طرف جانے والے راستے پر موجود برف پر اپنا پہلا قدم رکھا،جیسے چاند پر نیل نے رکھا ہوگا۔
یہ ان سب کا پہلا مشترکہ ٹور تھا کسی بھی پہاڑی اور برفانی علاقے میں۔
آس پاس بکھری برف کو ان سب نے بے یقینی سے دیکھا۔
”پینڈو۔“ نمل زیر لب بڑبڑائی۔ کون سا راستہ اور کیسی سیڑھیاں،ریسٹ ہاؤس تک کا سارا راستہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔
گرتے پڑتے معاذ اندر سے جبار کو بلا کر لایا جو اپنے ساتھ کدال اور ایک پتلا ڈنڈا لیتا آیا۔ کدال سے اس نے سیڑھیوں کو سیڑھیوں کی شکل دینے کی کوشش کی۔
برف بری طرح جم چکی تھی۔ بمشکل دو قدم ایک لمبی لائن وہ سڑک سے گھر تک بنا سکا۔
لڑکے گرتے پڑتے سامان شفٹ کرنے لگے۔ لڑکیاں لانگ شوز اور لانگ کوٹ سنبھالتی جبار کا سہارا لیے باری باری گھر تک جانے لگیں اور جاتے جاتے تین چار بار مزے سے پھسلیں۔
”فلموں میں تو ہیروئن مزے سے ڈانس کرتی رہتی ہے برف پر،ہم کیوں بار بار پھسل رہے ہیں۔“ نمل نے گر کے اُٹھتے ہوئے کہا۔
”یہ پاکستان کی برف ہے شاید اس لیے اور وہ یورپ کی ہوتی ہے۔“ حرا نے ہمیشہ کی طرح زیادہ پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیا۔
”ایک تو ہر اچھی چیز یورپ میں ہی ہے۔“ نمل قدم جما جما کر چل رہی تھی۔
ہر بار ان کے پھسل جانے پر جبار مضحکہ خیز انداز سے ہنسنے لگتا۔ وہ گھر کا کل وقتی ملازم تھا۔ رات کو اس کے خراٹے سن کر شامل اور نمل یہ سمجھے کہ شیر باہر کھڑا دھاڑ رہا ہے۔
اس کی ہنسی اور خراٹے ایک جیسا ہی ردھم رکھتے تھے۔ برف پر ایسے چلتا تھا،جیسے بندر کی طرح چھلانگیں لگا رہا ہو۔ معاذ کے نزدیک وہ ایک برفانی بد روح تھی،جو خاص برفانی علاقوں میں ہی پائی جا سکتی ہے۔
”پتا ہی نہیں چلا ایک ہفتہ گزر گیا۔“ عفان کم بولتا اور سب سے زیادہ مزے کرتا تھا۔ ہفتہ گزر جانے کا دکھ اسے ہی زیادہ تھا۔ معاذ،جرار اور شامل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آتش دان میں ہی گھس کے بیٹھ جائیں۔
”کراچی کے رہائشی تو باؤلے ہی ہو جاتے ہیں یہاں آکر۔“ مدیحہ نے معاذ سے اپنا بدلہ لیا۔
”پنڈی کے رہائشیوں کو یہ موقع بھی نہیں ملتا۔ پندرہ سال ہو گئے تمہیں پنڈی میں رہتے اور برف کے گولے بنا بنا کر ایسے اچھال رہی تھیں جیسے ہر سیزن یہاں آتی ہو۔“ معاذ بھی چپ نہیں رہا۔
”پڑھنے لکھنے والے بچے گھومنے پھرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
“ وہ ادا سے بولی۔
”یہاں تم سی ایس ایس کی تیاری کرنے آئی ہو نا اس بار؟“
”واپسی کب ہے؟“ حرا کے سوال پر عفان نے اسے کچھ زیادہ ہی غصے سے گھور کر دیکھا۔
”خبردار جو کسی نے واپسی کا نام لیا۔“ معاذ نے انگلی اٹھا کر سب کی طرف باقاعدہ لہرا کر کہا تاکہ سب دیکھ لیں اچھی طرح۔
”گھروں سے فون آئے تو کہو آواز نہیں آ رہی۔ زیادہ آئے تو فون بند کر دو۔
بند فون بھی بجنے لگے تو فون اٹھا کر باہر پھینک دو۔ یہاں میں تمہیں کھلا رہا ہوں،گھما رہا ہوں،وہ سب خود تو کبھی تمہیں یہاں لائے نہیں۔ اب بچے خود آ گئے ہیں تو برداشت نہیں ہو رہا۔“
”پھر بھی کب تک؟“ شامل جو کافی دیر سے مونگ پھلی نکال نکال کر جمع کر رہا تھا،ایک ساتھ ہی ساری منہ میں ڈال کر پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔
”کسی کو کوئی پرابلم ہے یہاں رہنے میں؟نہیں نا؟آرام سے رہو،صبح اُٹھو،باہر نکلو،برف پر پھسلو، گولے بناؤ،شیر ہاتھی اونٹ بناؤ،آئس کینڈی کھاؤ،ادھر ادھر گم ہو جاؤ اور رات کو اس پیارے سے آتش دان کے پاس آ کر بیٹھ جاؤ اور گپیں لگاؤ بعد میں دیکھیں گے کب جانا ہے واپس۔
میں نے تو موبائل آف کر دیا ہے دو دن سے، مجھے نہیں چاہیے سکون میں خلل…“
”خلل سے آپ کا مطلب گرل فرینڈ تو نہیں؟“جرار نے سنجیدگی سے پوچھا۔ معاذ نے صرف گھورنے پر اکتفا کیا۔
”لگتا ہے کوہ قاف میں آ گئے ہیں۔“
”کوہ قاف میں برف ہوتی ہے۔“ حرا کا سائنسی سوال۔
”نہیں۔ جن اور پریاں ہوتی ہیں۔“ شامل گفتگو میں شریک ہوا۔
”پاپا نے صرف چند دنوں کے لیے اجازت دی تھی۔“ حرا پھر سے پریشان ہو گئی۔
”پاپا کا فون آئے تو کہہ دینا۔ برف کا تودہ گرنے کی وجہ سے راستے بند ہیں۔ ہم ریسٹ ہاؤس میں قید ہیں۔ راستے کھلتے ہی آ جائیں گے۔“ معاذ نے مکمل سنجیدگی سے مشورہ دیا۔
”میں پاپا سے جھوٹ نہیں بولتی۔“
”جو جو جھوٹ نہیں بولتا،وہ اپنا سامان تیار کر لے۔
صبح گھر والوں سے جا کر سچ بول دینا۔ انتظام کر دوں گا تم سب کے جانے کا۔“ معاذ نے چڑ کر کہا۔
”یہاں برف کے تودے گرتے ہیں؟“مدیحہ پریشان ہو گئی۔
”برف ہے تو یقینا گرتے ہی ہوں گے۔ جبار سے پوچھ لیتے ہیں۔“ معاذ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
”رہنے دیں پلیز،اس طرح ہنستا ہے جیسے ہمارا مذاق اُڑا رہا ہو۔“
”وہ مذاق نہیں اُڑاتا نمل! وہ بس ہر بات کو انجوائے کرتا ہے۔
“معاذ نے جبار کا دفاع کیا۔
”یہ جو چھت پر اتنی ساری برف گری ہے،اگر چھت گر گئی تو…؟ میرا دوست بتا رہا تھا کہ اس کی نانی کے گھر ایبٹ آباد ہر سال کسی نہ کسی کی چھت گر جاتی ہے برف کی وجہ سے۔“ جبار نے آنکھیں گھما گھما کر بتایا۔
”اچھا…!“ معاذ سوچنے لگا۔ یہ گھر تو دو منزلہ ہے اگر چھت گری تو اوپر والی منزل کی گرے گی۔ معاذ نے سب کو تسلی دی۔ ”اور یہ ہر موقع پر تمہارے اور تمہارے دوست کے پاس کوئی نہ کوئی بری کہانی ہی ہوتی ہے سنانے کے لیے؟ اتنے سارے دوست ہیں کہ ہر جگہ کسی نہ کسی کی نانی،دادی موجود ہے کہانیاں سنانے کے لیے۔“
رات کا کھانا کھانے سے پہلے وہ سب باہر کا ایک اور چکر لگا آئے تھے۔ نیو مری،کشمیر پوائنٹ،مال روڈ پر وہ ایک بار جا کر بار بار جا رہے تھے۔ سب کچھ ان کے لیے نیا تھا اور وہ سب بھرپور انجوائے کر رہے تھے۔ وہ ہر بار نئی سے نئی چیز دریافت کر لیتے۔ برف سے ڈھکے چھوٹے بڑے گھر،دھند میں لپٹے پہاڑ اور درختوں اور برف سے ڈھکے رہائشی گھر۔ پتلی گول سڑکیں،کبھی نیچے تو کبھی اوپر،ایک دم سیدھی اور اچانک سے تنگ اور پتلی۔
اس دن وہ سب دریائے نیلم گئے۔ دوپہر کا کھانا وہیں کھایا اور رات کا کھانا کھانے سرشام ہی مین مال پر آ گئے۔ جرار اور معاذ کا مشترکہ خیال تھا کہ مال روڈ سے بہتر جگہ تفریح کے لیے کوئی اور نہیں۔
”السلام علیکم لالا جی!“ جرار نے دور سے ہی ہاتھ سر تک لے جا کر ہانک لگائی۔
”پورے پاگل لگتے ہو۔“ مدیحہ کو اس کی یہ حرکت بری لگتی تھی۔
”سلام کرنا پاگل پن ہے؟“وہ حیران ہوا۔
”مسخرے لگتے ہو پورے دیکھو! وہ خان صاحب بھی ہنس رہے ہیں۔“
”ہاں تو! میں آیا ہی دنیا میں دوسروں کو خوش کرنے کے لیے ہوں۔“
موسم آبر آلود تھا ایسا لگ رہا تھا،ہر چیز دھواں چھوڑ رہی ہے۔ ایک ایک،دودو کمروں پر مشتمل ہوٹلوں کے باہر کاؤنٹرز پر پکتے کھانوں میں خاص کر تکے،کبابوں اور سجی کی خوشبوئیں بہت دلفریب محسوس ہو رہی تھیں۔
ابر آلود گہری شام کی دھندلاتی روشنیاں اور بے فکر لوگوں کی بے فکر چہل قدمی اس شام کا حسن تھا۔
معاذ نے سب کو بڑی بڑی آئس کینڈی لے کر دی۔
”واہ!“کینڈی کھاتے کھاتے ہر دو منٹ بعد معاذ کے منہ سے نکلتا،مال پر چلتے چلتے لوگوں کا رش انتہا تک بڑھ گیا،ہوٹلوں کے ایجنٹ ہر نئے آنے والے کے پیچھے بھاگتے ہاتھ پکڑ کر اس طرف گھسیٹتے بھی…
”تمہارے ابا تو کہہ رہے تھے اس موسم میں پاگل ہی نکلتے ہیں۔
“معاذ نے حرا اور مدیحہ کو مخاطب کیا۔ ”یہ ہزاروں پاگل ہیں کیا؟“
”یہ ہزاروں لوگ نہیں،ان کے ابا۔“ شامل نے اپنا فرض سمجھا اس بات کا جواب دینا۔
”شٹ اپ!“مدیحہ سے پہلے حرا چلائی۔
زیادہ تر لڑکے لڑکیوں کے گروپس تھے۔ اس موسم میں بوڑھے تو خیر کیا نکلتے۔ کپلز کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ زیادہ تر کا تعلق مری،پنڈی،اسلام آباد اور قریب کے ہی دوسرے علاقوں سے تھا۔
ایلیٹ کلاس زیادہ نظر آ رہی تھی۔ لڑکوں کا ایک گروپ ان ٹرالیوں کو جو وہاں آنے والوں کو سامان،بچوں یا ضعیف افراد کو کرائے پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں،غلط استعمال کر رہے تھے۔ ایک بیٹھتا ایک گھسیٹتا،پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ مال پر یہی تماشا کر رہے تھے۔ساتھ بے ہودہ ”ہو ہو ہا ہا“ الگ سے،چلنے پھرنے والے بری طرح بے زار تھے ان کے اس بے ڈھنگے شوق سے…
مال سے زیر زمین مارکیٹ کی ایک دُکان سے چپلی کباب اور دوسری دُکان سے کڑاہی کھا کر وہ شاپنگ کے ارادے سے ادھر ادھر دُکانوں کا جائزہ لینے لگے۔
معاذ پہلے کہہ چکا تھا،جو فارغ ہوتا جائے گاڑی کے پاس آتا جائے۔ گاڑی وہاں سے کافی دور پارک تھی۔ معاذ جہاں تک سہولت سے ڈرائیونگ کر سکتا تھا،وہ وہاں تک کرکے گاڑی پارک کر دیتا تھا۔ ان گول گول بل کھاتی سڑکوں پر وہ گاڑی نہیں چلا سکتا تھا۔
حرا ایک دُکان میں کافی دیر سے کُرتے دیکھ رہی تھی۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ کُرتا لے یا جیولری۔
وہ چاہتی تھی اپنی دوست کے لیے ایک جیسی ہی چیزیں لے لے۔ باہر برف باری شروع ہو چکی تھی۔ شام کا اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا۔ مال پر افراتفری سی شروع ہو گئی تھی۔ حرا نے سر بال نکال کر دیکھا۔ پہلی برف باری انہوں نے ریسٹ ہاؤس میں دیکھی تھی اور دل کھول کر مزا کیا تھا،اس نے جلدی سے اپنا بیگ چیک کیا،اس کے پاس پیسے کم تھے۔ کچھ دیر پہلے نمل اس کے ساتھ ہی اس دکان پر مختلف چیزیں چیک کر رہی تھی۔
اب وہ غائب تھی۔ باہر نکل کر اس نے ایک دو دُکانوں میں جھانک کر مدیحہ کو دیکھا مگر نہ وہاں مدیحہ تھی نہ ہی کوئی اور۔ گروپ کی صورت تو انہوں نے پہلے بھی کبھی شاپنگ نہیں کی تھی۔ کوئی کہیں ہوتا،کوئی کہیں۔
”بیٹا! آپ مال کے ہی کسی ہوٹل میں رہائش پذیر ہو؟“ وہ کُرتوں والی دُکان پر واپس آئی کہ ایک دو ہی خرید لے،جب کام کرتے بزرگوار نے پوچھا۔
”نہیں…“ اس نے سر نفی میں ہلایا۔ مال پر برف باری کا ہلا گلا انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
”اسلام آباد سے آئی ہو تو جلدی نکل جاؤ۔برف باری میں سڑک پر پھسلن کی وجہ سے روڈ بند ہو جاتے ہیں اور…“
اسلام آباد کے لیے نفی میں سر ہلاتی اگلی بات سنتے ہی وہ تیزی سے باہر کی طرف لپکی۔ باہر بھی افراتفری کا ہی عالم تھا۔ اس کا فون بھی بج رہا تھا لیکن تیزی سے قدم جما جما کر چلتے ہوئے وہ بیگ میں سے فون نہیں نکال سکتی تھی۔
مال پر گاڑیوں کی لمبی لائن اسے نظر آ گئی۔ گاڑیوں کے ہارن،لوگوں کا شور،اچانک ہی منظر کچھ کا کچھ ہو گیا۔ گاڑیوں کے درمیان سے وہ بمشکل آگے بڑھنے لگی۔
”کہاں ہو۔ جلدی آؤ۔“ مسلسل بجتے فون کو اس نے ایک جگہ رک کر سنا۔
”آ رہی ہوں۔“ کہہ کر وہ تیزی سے چلنے کی کوشش کرنے لگی۔
مال کی مین سڑک اس نے عبور کر لی تھی۔ اب بل کھاتی گول نیو مری کی طرف جانے والی سڑک جس کے ایک طرف پہاڑ تھا،درمیان میں چھوٹی سی سڑک اور دوسری طرف کھائیاں اور سڑک کے انتہائی کنارے پر برف تھی،وہ چلتی کہاں برف کے اوپر۔
جیسے تیسے کرکے وہ کنارے کنارے چلنے لگی۔ گاڑیوں میں بیٹھے لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے،چلنے والوں میں سے وہ اکیلی ہی لڑکی تھی جو جلدی میں بھی تھی،بوکھلائی ہوئی بھی اور پریشان بھی۔
”جلدی آؤ حرا!“معاذ کی چوتھی بار کال آئی۔ ”سب آ چکے ہیں۔ ایک تم ہی نہیں آئی۔ کہاں ہو تم؟ فوجی ہمیں یہاں سے جلدی نکلنے کے لیے کہہ رہے ہیں وہ راستہ کلیئر کروا رہے ہیں۔ میں گاڑی آگے لے کر جا رہا ہوں۔ تم ذرا تیز تیز چلو۔“
وہ تیز کہاں سے چلتی،دوبار پھسل چکی تھی گاڑیاں آگے پیچھے پھنسی کھڑی تھیں۔ لگتا تھا اب ہر شخص کو جانے کی جلدی ہے۔
ہلکی ہلکی برف باری جاری تھی۔ رکی ہوئی ٹریفک میں کبھی کبھی برائے نام حرکت پیدا ہو جاتی۔ شاید راستہ آگے سے جام تھا،پھر ان میں تھوڑی سی زیادہ حرکت نظر آنے لگی اور گاڑیاں آگے پیچھے تیزی سے حرکت کرنے لگی۔ اب تو وہ سڑک پر پاؤں بھی نہیں رکھ سکتی تھی۔ ناچار وہ برف کے ڈھیر پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اور پھر تھوڑا بہت جتنا راستہ مل رہا تھا چلنے لگی۔
عجیب مشکل تھی۔ بیگ میں رکھا فون بار بار بج رہا تھا۔ اندھیرا گہرا ہو گیا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ وہ ضرور الجھ کر پیچھے جا گرے گی۔ گو وہ ایسی خطرناک کھائیاں نہیں تھیں،پھر بھی گرنے کا خوف الگ تھا۔
اچانک ایک زور دار دھماکا سا ہوا اور وہ خوف سے بری طرح گر پڑی۔ برف کے ڈھیر میں شاید کوئی ٹھوس چیز دبی ہوئی تھی،جو اس کی کمر پر بری طرح لگی۔
اٹھ کر سنبھلنے پر درد کی ایک تیز لہر اس کی کمر میں اٹھی۔ دھماکے کی آواز سے اوسان الگ خطا تھے۔ گاڑیوں میں سے لوگ نکل نکل کر سامنے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
”حرا! تم ٹھیک ہو؟“معاذ کی گھبرائی ہوئی آواز اسے فون پر سنائی دی۔ وہ رونے لگی اور وہ گھبرا گیا۔ ”دو گاڑیاں الٹ گئی ہیں۔“
”کیا؟“ وہ درد بھول کر چلائی۔
”ہاں… تم تو حادثے والی جگہ کے پاس نہیں ہونا،کہاں ہو تم۔
“
”مجھے نہیں معلوم،میں برف پر بیٹھی ہوں۔ میں گر بھی گئی۔ کمر میں درد ہے بہت۔ آگے جانے کا راستہ نہیں ہے۔ آپ کہاں ہیں؟“
”لگتا ہے تم اس جگہ سے کافی دور ہو۔جہاں گاڑیاں الٹی ہیں۔ تم وہیں بیٹھی رہو۔ میں کچھ کرتا ہوں،میں نے باقی سب کو ریسٹ ہاؤس بھیج دیا ہے۔ میں اکیلا یہاں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔“
وہیں بیٹھے بیٹھے اسے کافی دیر ہو گئی۔
افراتفری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ریسکیو ٹیم آ چکی تھی۔ وہ لوگ مستعدی سے ادھر ادھر مصروف ہو گئے۔ وہ لوگوں کو گاڑیوں میں پرسکون بیٹھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ پیدل اور گاڑیوں دونوں کے لیے آگے جانا ناممکن تھا۔
”میڈم ! آپ ٹھیک ہیں؟“ ایک فوجی اس کے پاس آیا۔
”نہیں۔“ اس نے رونی صورت لیے کہا۔ ”میں گر گئی ہوں اور مجھے وہاں جانا ہے۔
“ اس نے ہاتھ سے بلاک سڑک کی طرف اشارہ کیا۔ ”میری فیملی وہاں ہے اور میں یہاں اکیلی ہوں۔“
فوجی نے اس کے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا۔ ”وہاں دو گاڑیاں الٹ چکی ہیں۔ جب تک کرین نہیں آتی،سڑک کلیئر نہیں ہو گی۔“
”کب آئے گی کرین؟“ اسے لگا یہی کوئی پندرہ بیس منٹ تک آ جائے گی۔
”کل تک شاید ہی یہ سڑک کلیئر ہو۔“
”کل تک…“ وہ چلائی۔
جلدی سے معاذ کو فون کیا ساری صورتحال بتائی۔ معاذ الٹا خود پریشان ہو گیا۔
فوجی لوگوں کو گاڑیوں میں سے نکلنے کا کہہ رہے تھے۔ لوگ گاڑیوں میں ہیٹر آن کیے بیٹھے تھے۔ پٹرول ختم ہوتے ہی ہیٹر بند ہو جاتے اور ان کی گاڑیاں بنا پٹرول کے وہیں بند کھڑی رہتیں۔ وہ بار بار انہیں یہی سمجھا رہے تھے،گاڑیوں میں لاک رہنے سے ان پر غنودگی طاری ہونے کا خطرہ تھا۔
ہیٹر بند ہوتے ہی نیند میں ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ خاص کر چھوٹے بچوں کے ساتھ۔ لوگ گاڑیاں لاک کرکے مال روڈ کے ہوٹلز کی طرف بھاگے۔ حسب معمول مال کے ہوٹلز ایسے ہی کسی واقعے کے انتظار میں تھے۔ انہوں نے موقع دیکھتے ہی کرائے پانچ چھ گنا بڑھا دیے۔ وہ ٹوٹے پھوٹے کمرے جن کے کرایے سردیوں میں چار،پانچ سو سے زیادہ نہیں ہوتے تھے،اب سات،آٹھ ہزار ہو گئے تھے۔
لوکل ویگنوں اور ٹیکسیوں میں بیٹھے لوگ زیادہ پریشان تھے۔
”بیٹا! آپ ٹھیک ہیں؟“ وہ سردی سے کانپ رہی تھی اور کمر کا درد الگ۔
”نہیں…“ اس نے صاف کہا۔ اس کے ہونٹ نیلے ہو گئے تھے اور رونے سے آنکھیں سرخ۔
”ادھر آئیں میرے ساتھ۔“ وہ ان کے پیچھے چلتی ایک فوجی جیپ تک آئی۔
”یہاں بیٹھئے…“ وہاں تین چار خواتین پہلے سے ہی موجود تھیں اور گرم دودھ پی رہی تھیں۔
ایک کپ حرا کو بھی دیا۔
”آپ کا نام کیا ہے بیٹا؟“
”حرا!“ اس کی آواز بری طرف کانپ رہی تھی۔
”حرا بیٹا! پریشان مت ہوں۔ میں ڈاکٹر خاور ہوں۔“
”میری کمر میں درد ہے،میں گر گئی تھی۔“
”اوہ… ٹھنڈ کی وجہ سے زیادہ درد محسوس ہو رہا ہوگا۔ میں آپ کو پین کلر نہیں دے سکتا،جب تک اچھی طرح سے چیک اپ نہ ہو جائے۔ آپ کی فیملی…“
اس نے سر سے بلاک سڑک کی طرف اشارہ کیا۔
”میں یہاں اکیلی ہوں… اس طرف… یہیں وہ لوگ…“
وہ سمجھ گئے۔ ”پریشان مت ہو بیٹا! ایک تو بچے آپ لوگ کسی کی بات نہیں سنتے۔ کب سے الرٹ دے رہے تھے کہ اس موسم میں گھروں میں رہیں۔“
”میں لاہور سے آئی ہوں۔“
”بیٹا! رات تک تو یہ راستہ کلیئر نہیں ہوگا۔ آپ اکیلی ہو۔ ہوٹل بھی نہیں جا سکتیں۔ میرا گھر یہاں سے کچھ دور ہے۔ یہ پانچ لوگ میرے ساتھ جا رہے ہیں۔
آپ بھی چلیں۔ یہاں مجھے سب جانتے ہیں۔ قریب ہی میرا ہسپتال ہے۔ آپ اپنی فیملی سے پوچھ لیں۔“
اس کا تو تھوڑا بہت چلتا دماغ بھی ماؤف ہو چکا تھا اگر معاذ وغیرہ کچھ نہ کر سکے تو وہ کیا کرے گی۔ اس نے معاذ کو فون کیا۔ ساری صورت حال بتائی،پھر معاذ کی ڈاکٹر خاور سے بات کروائی۔
”ٹھیک ہے۔ تم جاؤ ان کے ساتھ۔“ معاذ نے پانچ منٹ اسے ہولڈ کروانے کے بعد کہا۔
”میں نے یہاں کھڑے فوجیوں سے ان کے بارے میں پوچھا ہے۔ سب جانتے ہیں انہیں،وہ قابل اطمینان ہیں۔ تم جاؤ ان کے ساتھ،میرا تمہارے پاس آنا ناممکن ہے۔“
”میں انہیں ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔“ ڈاکٹر خاور نے ان پانچ افراد کی طرف اشارہ کرکے ایک فوجی افسر کو بتایا۔
کافی دیر چلتے رہنے کے بعد ڈاکٹر خاور کے گھر پہنچے۔ کھانا کھلا کر ان کی ملازمہ جنت،حرا اور ایک دوسری عورت کو ایک کمرے میں لے آئی۔ باقی لوگ ہال میں لگے بستر پر پہلے ہی ڈھیر ہو چکے تھے۔ بیڈ پر گرتے ہی وہ سو گئی۔ اس کی کمر بہت دکھ رہی تھی۔ گرمائش ملتے ہی درد کم ہونے لگا۔ اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اٹھ کر واش روم تک ہی چلی جاتی۔
وہ اتنی گہری نیند سوئی جیسے اپنے بیڈ روم میں ہو۔ اس کی آنکھ کھلی تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ فریش ہونے کے بعد وہ کمرے سے باہر آئی۔ گھر میں بہت سے افراد کی موجودگی کے آثار نظر آ رہے تھے وہ کچن میں آگئی۔
گھر بہت بڑا کھلا اور کشادہ تھا،آتش دان بہت بڑا اور قدیم طرز کا تھا۔ لاؤنج کے ایک طرف کچن اور دوسری طرف ہال نما کشادہ کمرا تھا۔ ہال کے ساتھ ہی آگے پیچھے دو کمرے بنے تھے جن میں سے ایک میں وہ سوئی تھی۔
”یہ لیں آپ ناشتا کریں۔“ اس کے کچن میں آتے ہی جنت نے ٹرے ٹیبل پر رکھی۔ سنکے ہوئی توس،آملیٹ اور جام تھا۔
”چائے پیوگی یا کافی؟“ وہ پوچھ رہی تھی۔ سارا کچن الٹا پلٹا تھا۔ استعمال شدہ برتنوں کا ایک ڈھیر جمع تھا۔ جنت تیزی سے کام سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جنت کی شکل سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ بہت تھک چکی ہے۔
”میں ناشتا کرکے مدد کرواتی ہوں۔
“ اس نے پیشکش کی۔
”شکریہ بی بی!“ وہ ساتھ والی ایک کرسی پر ڈھے گئی۔ ”پچیس لوگوں کو ناشتا کروایا ہے۔“
”اور لوگ آئے تھے رات؟“ وہ حیران ہوئی۔
”لڑکے تھے کافی سارے۔ ناشتا کرکے چلے گئے۔ لاؤنج میں سوئے تھے رات کو۔“
”راستہ کھل گیا؟“ حرا خوش ہوئی۔
”نہیں ابھی نہیں،باہر نکل کر تو دیکھیں! کتنی برف باری ہوئی۔
“
”اچھا…!“
مقامی لوگ جتنا کر سکتے ہیں،کرتے ہیں۔ سڑک کے اوپر پہاڑی پر میری بہن کا گھر ہے۔ کچھ لوگ وہاں اس کے گھر میں بھی ہیں۔ پچھلی بار ایک نومولود ٹھنڈ سے مر گیا تھا۔ ہمیں بہت دکھ ہوا۔“
”اوہ!“ حرا کو دکھ ہوا۔
جنت سانس لینے کے بعد پھر سے کچن سمیٹنے لگی۔ حرا نے بھی اٹھ کر اس کی مدد کروائی۔ اپنے گھر میں اس نے کبھی بیڈ کور تک ٹھیک نہیں کیا تھا لیکن جنت کو دیکھ اسے احساس ہوا کہ دوسروں کے لیے بے لوث خدمت کرنا کتنا اہم ہے۔
حرا اس سے متاثر ہوئی تھی۔ جنت کے ساتھ ہی مل کر اس نے سارا گھر صاف کیا۔ رات کو اس کے ساتھ آنے والی عورتیں ہال میں موجود تھیں ہال باقی گھر کی نسبت زیادہ گرم تھا۔
دوپہر کا کھانا حرا نے جنت کے ساتھ مل کر بنوایا بھی اور سب کو کھلایا بھی۔
”بی بی! میں سونے لگی ہوں،بہت تھک گئی ہوں۔ آپ بھی سو جائیں۔“
”میں بی بی نہیں ہوں۔ میرا نام حرا ہے۔
“حرا نے نرمی سے کہا۔
”اچھا حرا بی بی! چاہے تو ہال میں آ جائیں یا اسی کمرے میں چلی جائیں۔“
وہ اس کے یوں حرا بی بی کہنے پر مسکرانے لگی۔
نمل،معاذ وغیرہ سے تفصیلی بات کرنے کے بعد وہ فریش ہو گئی۔ کمر کا درد بھی ٹھیک تھا۔ کمرے کا بیرونی دروازہ کھول کر وہ گھر کے پچھلی طرف آ گئی۔ بہار میں یقینا یہ گھر کے لان کا خوبصورت منظر پیش کرتا ہو گا۔
برف سے ڈھکا لان بہت بڑا تھا۔
باہر کا منظر دیکھ کر حرا نے ایک لمبی سانس لی۔برف پر قدم جما جما کر چلنے کے باوجود وہ دو بار پھسل چکی تھی۔ جتنے دنوں سے وہ یہاں تھے۔ وہ سب سے زیادہ پھسلی تھی۔ پہلے تو سب اسے اٹھا بھی لیتے تھے،پھر اس کے گرنے پر ہنستے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔
تیسری بار وہ پھسلی تو دس فٹ تک پھسلتی ہی چلی گئی۔ وہ اوپر سے نیچے کی طرف جا رہی تھی۔
خود کو پھسلنے سے روکنے کے لیے اس نے برف کو گرفت میں لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہی اور دھڑم سے ایک گڑھے میں جا گری۔ اتنے تکلیف دہ انداز میں گرنے پر اس کی اچھی خاصی چیخ نکل گئی۔ اس کا سانس بری طرح سے اُکھڑا ہوا تھا۔ گر کر سنبھلتے ہی اس نے اردگرد کا جائزہ لیا۔ برف سے بھرنے کے بعد گڑھا آٹھ فٹ گہرا تھا۔ اچھل کر اس نے گڑھے سے باہر دیکھنا چاہا مگر ناکام،کنارے کو پکڑ کر اوپر اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی وہ بھی ناکام۔
اس کی گرفت کناروں پر موجود برف پر جم ہی نہیں رہی تھی۔
ایک بار وہ گڑھے سے تقریباً آدھی اوپر آ چکی تھی کہ پھر نیچے…
اسی لمحے اس نے کچھ فاصلے پر کسی کو دیکھا۔ شاید نظر کا دھوکا تھا،پوری طرح دیکھنے سے پہلے ہی وہ دھڑام سے نیچے،شاید دھند میں لپیٹی کوئی چیز تھی۔ وہ دعا مانگنے لگی کہ وہ جنت ہی ہو۔
”جنت… جنت…!“
لیکن جنت نہیں آئی۔
پانچویں کوشش میں وہ پھر آدھی باہر نکل آئی۔ اس بار دو عدد پاؤں اس کے باہر نکلتے ہاتھوں سے ٹھیک تین فٹ کے فاصلے پر کھڑے نظر آئے۔ اس کے آدھا باہر نکلتے ہی وہ دو فٹ اور دور ہو گئے کہ مبادا وہ انہیں ہی نہ پکڑ لے۔ جب وہ دوبارہ واپس گری تو اسے شدید غصہ آیا… اس پر جو باہر تھا لیکن اس کی مدد نہیں کر رہا تھا۔
”کوئی ہے…؟“ وہ چلائی ”کون ہے باہر… ہیلپ… ہیلپ۔
“
وہ ایک ایک لفظ کو کھینچ کھینچ کر چلانے لگی۔ اس بار اس نے اوپر چڑھنے کی کوشش بھی ترک کر دی کیونکہ اس کا اس طرح باہر نکلنا ناممکن تھا۔
”آخر تمہیں کتنی اور ہیلپ چاہیے؟“
گڑھے کے کنارے ایک دم وہ لمبا تڑنگا شخص بھاپ اُڑاتا مگ تھامے نمودار ہوا۔ اس کے انداز میں تمسخر تھا اور اس سے پہلے شاید وہ ہنستا بھی رہا تھا۔
حرا کی نظریں اس پر ٹک گئیں۔
”بتاؤ اور کتنی مدد چاہیے؟“ وہ کنارے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا جیسے سیف الملوک میں مچھلی تلاش کر رہا ہو۔ اس نے مگ سے گھونٹ بھرا
”تم شہری لوگ خود کو سمجھتے کیا ہو؟ ٹام کروز یا جیٹ لی؟ بہت پسند کرتے ہو ایڈونچر؟“
حرا کو شہری لوگ پر حیرت ہوئی،تو کیا مری گاؤں ہے۔“
”چلو پھر نکلو یہاں سے۔ ٹام کروز بن کر لگاؤ چھلانگ اور ثابت کر دو خود کو۔
پچیسویں کوشش میں بھی تم یہاں سے نکل آئیں تو میں چائے پینا چھوڑ دوں گا… چلو شاباش،کرو کوشش۔“وہ اسے پچکارنے لگا اور ساتھ ہی اٹھ کر دو قدم پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔
”شٹ اپ!‘حرا اتنا ہی برداشت کر سکتی تھی بس۔
”شٹ اپ؟“اس نے حیرانی لیے اس کے ہی انداز میں اس کے الفاظ دہرائے اور ایسے ہی کنارے پر آکر بیٹھ گیا،جیسے اپنی ہنسی اور حیرت دبا رہا ہو۔
”میں نے تمہیں گرایا ہے؟ میں نے کہا تھا گھر سے اس خراب موسم میں نکلو اور یہاں گھومنے چلی آؤ۔ نیوز چینل الرٹ دے دے کر تھک چکے ہیں لیکن شاید تمہیں اس برفانی موسم میں برفانی ریچھ کی طرح گشت کرنے کا جنون ہے یا شو… شو… کرتے قلابازیاں لگاتے پہاڑوں پر چھلانگیں لگانے کا شوق پورا کرنے آئی ہو۔ وہاں سے نکال کر پاپا تمہیں یہاں لائے مگر وہی تمہاری جیٹ لی ٹائپ کی روح تمہیں پھر گھر سے باہر لے آئی اور تم اس گڑھے میں آگریں۔
دو بار پھسل کر سنبھلی مگر پھر بھی واک کرنے سے باز نہیں آئی۔ جب برف پر چل نہیں سکتی تو چلتی کیوں ہو۔ اگر میں تمہیں کھڑکی سے نہ دیکھ رہا ہوتا تو تم یہیں پڑے پڑے ٹھنڈسے اکڑ جاتیں اور تمہاری اکڑی ہوئی لاش… ہی تمہارے گھر جاتی اور تمہاری وہ جنت… جنت… ہیلپ… ہیلپ کی آوازیں یہاں سے پندرہ فٹ سے آگے سنائی نہیں دے رہیں اور گھر چالیس فٹ کے فاصلے پر ہے اور جنت اس سے بھی بہت زیادہ فاصلے پر… تم شہری لوگ… کبھی برف نہیں دیکھی…؟برف دیکھتے ہی ایسے پاگل ہو جاتے ہو جیسے انگلش موویز میں بھیڑیے چاند کے نکلتے ہی ہو جاتے ہیں۔
“
حرا اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اسے دیکھ ہی سکتی تھی۔
”نکلو اب…“وہ بدتمیز اب بھی چُپ نہیں ہوا تھا۔ ساتھ ساتھ چائے کے گھونٹ بھی لے رہا تھا۔
”اچھا… اگر میرے سامنے نہیں نکل سکتیں تو میں چلا جاتا ہوں۔“اور کہتے ہی چلا بھی گیا۔ ایک بار پھر حرا نے بمشکل سر نکال کر باہر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا وہ واقعی میں جا چکا تھا۔
”بدتمیز!حرا بے بسی سے کھڑی کچھ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
”یہ لو چارلیز انجیلز…“اس نے لکڑی کے ایک چوڑے تختے کو گڑھے میں نیچے سے اوپر کی طرف آڑھا رکھا۔“ اس پر سے چل کر اوپر آ جاؤ۔“
وہ اس کے جانے کا انتظار کرنے لگی کہ وہ جائے تو وہ اوپر آئے۔ اس کے سامنے وہ باہر نہیں آنا چاہتی تھی مگر وہ مزے سے وہیں کھڑا رہا ناچار ہاتھوں اور پیروں کی مدد سے بلی کی طرح چلتی وہ باہر آ گئی۔
”یہ تختہ میں یہیں رہنے دیتا ہوں۔ ہو سکتا ہے تمہارا دوبارہ اس طرف آنے کا ارادہ ہو۔“
وہ اس کے آگے آگے چلتا ہوا مسلسل بول رہا تھا۔ حرا کا دل چاہ رہا تھا اسے اس گڑھے میں دھکا دے دے… وہ اس کے پیچھے چل رہی تھی اور چلتے چلتے وہ دوبارہ گری۔
اس نے مڑ کر اسے دیکھا۔ ”بہت خوب… کمال کا گرتی ہو۔ پھر گر کر دکھاؤ…“ ہاتھ سینے پر باندھ کر وہ کھڑا ہو گیا۔
وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ اس کی شکل بتا رہی تھی کہ وہ بمشکل ضبط کر رہی ہے اور سامنے والے کی شکل بتا رہی تھی کہ وہ اس کے ضبط سے خوب محظوظ ہو رہا ہے۔
”بہت ذہین ہو۔“ وہ اسے سر سے لے کر نیچے تک دیکھ کر بولا۔
”بہت اچھی میچنگ کی ہے شوز کی ڈریس کے ساتھ لیکن شاید تمہیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ برف پر چلنے کے لیے شوز کو اوپر سے نہیں،نیچے سے دیکھا جاتا ہے۔
تمہارے شوز پھسلنے کے لیے بیسٹ ہیں۔ ان فیکٹ ان سے بہتر شوز دنیا میں اور ہو ہی نہیں سکتے۔ سو کیپ سلپنگ۔“
کہہ کر وہ آگے چلنے لگا۔
اس بار وہ زیادہ احتیاط سے قدم جما کر چلنے لگی۔ اس وقت وہ اپنے سب سے بہترین سوٹ میں ملبوس تھی۔ سیاہ ڈبل ہائی نیک،گہرے نیلے،ٹاپ نما ٹی شرٹ اور ہم رنگ گھٹنوں تک لانگ کوٹ،سیاہ اسکارف گرہ کی صورت گردن کے گرد لپٹا ہوا تھا اور جن لانگ شوز پر اس نے اتنی تنقید کی تھی۔
وہ لانگ شوز ایمرجنسی میں رات ایک بڑے اسٹور سے لائی تھی۔برفانی علاقے وزٹ کرنے کے لیے یہ اس کی من پسند ڈریسنگ تھی۔ اس کی قسمت خراب کہ چلتے چلتے وہ ایک بار پھر پھسل گئی۔
اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور دیر تک ہنستا رہا جیسے سالوں بعد موقع ملا ہو۔
”بہت خوب… بہت خوب…!“
غصے اور خفت سے وہ وہیں بیٹھی رہی۔ اس نے اس کے سامنے اٹھ کر چلنے کی کوشش ہی ترک کر دی اور اس کے وہاں سے چلے جانے کا انتظار کرنے لگی۔
”کیا انداز ہے شہری لوگوں کا…“ بلند بانگ خود کلامی کرتے وہ واقعی چلا ہی گیا۔
ایک بار مزید گرنے کے بعد وہ بھی اندر آ ہی گئی۔ کچن میں سے اس کے اور جنت کے ہنسنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ خفت اور شرمندگی سے اس کا برا حال تھا۔ اتنے لمبے تڑنگے انسان کے سامنے اس کی اتنی بے عزتی ہو گئی تھی۔
کچھ ہی دیر میں جنت اس کے لیے چائے سے بھرا مگ اور دو اُبلے انڈے لے آئی۔
جنت کی آنکھیں ابھی بھی مسکرا رہی تھیں۔
”حرا بی بی! اپنا موڈ خراب مت کیجیے۔ مہران بھائی ایسے ہی ہیں۔ میں بھی گر جاتی تو ایسے ہی کرتے۔ رات بھر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کام بھی کرواتے رہے ہیں اور باتیں بھی سناتے رہے ہیں سب کو۔ لڑکوں کا جو گروپ رات یہاں رہا،ان کے ساتھ تو انہوں نے حد ہی کر دی۔ کہہ رہے تھے کہ اس خراب موسم میں اگر وہ گھر سے نہ نکلتے تو اتنے شاندار حادثے کا شکار کیسے ہوتے۔
“
جنت کافی دیر تک بولتی رہی لیکن اس نے نہیں سنا۔ اسے شدید غصہ تھا۔
”بدتمیز… جاہل!“ حرا غصے سے بڑبڑائی۔ جب وہ جنت کے ساتھ مل کر گھر صاف کر رہی تھی تب تک کوئی گھر میں موجود نہیں تھا۔ شاید یہ مہران نامی بلا کچھ دیر پہلے ہی گھر آئی تھی۔
”کوئی دوا ہے تو مجھے دو۔ میں اپنے ہاتھوں پر لگاؤں۔“ حرا نے دونوں ہاتھ جنت کے سامنے کرکے کہا۔
”اوہ!“ وہ ہاتھوں کو دیکھ کر رہ گئی۔
وہ جنت کے ساتھ کمرے میں بیٹھی باتیں کرتی رہی پھر جنت کچن میں چلی گئی۔ نمل سے فون پر بات کرنے کے بعد وہ بھی کچن میں آ گئی۔ اسے دھڑکا ہی لگا ہوا تھا کہ وہ پھر نہ آ جائے۔ اس شخص کے سامنے اس کی عجیب و غریب درگت بنی تھی۔
جتنا ہو سکا وہ جنت کے ساتھ کام کرواتی رہی۔ رات جو خواتین آئی تھیں۔انہیں جنت کھانا اور دوا دے چکی تھی۔ ان میں سے ایک کو نمونیا ہو چکا تھا۔
ایک ویسے ہی بہت بیمار ہو گئی تھی۔ بار بار قے کر رہی تھی۔ بمشکل سات بجے تھے۔ کام کروا کر وہ واپس کمرے میں آ گئی۔ ایک دو میگزین رکھے تھے،اٹھا کر پڑھنے لگی،پڑھنا کیا تھا عجیب سے میگزین تھے نہ فیشن سے متعلق نہ شوبز سے۔ بیڈ کی سائیڈ پر پین رکھا تھا،اٹھا کر وہ اپنا پسندیدہ کام کرنے لگی۔ وہ اپنے ہاتھ لگنے والے ہر اخبار،میگزین،تصویر،کتاب پر ناک،کان،مونچھیں، داڑھی،ٹوپی،گول گول دائروں والی بڑی عینک بنا دیا کرتی تھی۔
میگزین میں موجود ماڈلز کو چارلی کی طرح لمبا ٹیل والا کوٹ اور لڑکوں کو سینڈریلا فراک پہنا دیا کرتی تھی۔ بنائے گئے کرداروں کے نام اور ان سے متعلق جملے بھی لکھا کرتی تھی۔ کافی دیر تک وہ میگزین کے ساتھ مصروف رہی۔
”ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ کو برا نہ لگے تو کھانا ان کے ساتھ کھا لیں۔“
”میں آ رہی ہوں۔“
###
سلام کرکے وہ ڈائننگ ٹیبل پر ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
باہر برف باری ہو رہی تھی۔ آتش دان روشن تھا۔ مٹر پلاؤ کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ گرم اور روشن ماحول بہت اچھا لگ رہا تھا۔
”فیملی کیسی ہے حرا آپ کی؟“ چاولوں کی ٹرے اس کے سامنے کرکے وہ پوچھنے لگے۔
”وہ سب ٹھیک ہیں۔“ حرا ان کے بارے میں بتانے لگی۔
”حادثے والی جگہ تو کلیئر ہو چکی ہے لیکن برف باری کی وجہ سے اس طرف سفر خطرناک ہو سکتا ہے خاص کر نیو مری کی طرف۔
صبح تک کوشش کرکے میں آپ کو بھجوا دوں گا مگر آپ یہاں اطمینان سے رہیں۔ میری وائف سردیاں شروع ہوتے ہی اسلام آباد بیٹی کی طرف چلی جاتی ہے۔ وہ زیادہ ٹھنڈ پسند نہیں کرتی۔ ہم چار لوگ ہی یہاں ہوتے ہیں اس موسم میں۔ آپ کو یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں؟“
”نہیں…“ اس نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا۔ ”میں آپ کی بے حد شکر گزار ہوں۔ جو کچھ آپ نے میرے لیے کیا۔
“
شکر گزار ہونے کی ضرورت نہیں بیٹا! یہ میرا فرض تھا۔ جنت نے مجھے بتایا تو مجھے اچھا نہیں لگا۔ مہران بس ایسا ہی ہے۔ اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ ہماری مہمان ہو۔“
”اِٹس او کے۔“ ڈاکٹر صاحب شرمندہ شرمندہ سے اُسے اچھے نہیں لگے۔
”مذاق کرتا ہے بس وہ… سنجیدہ نہیں ہوتا۔“ وہ اس کا دفاع کر رہے تھے اور وہ سوچ رہی تھی کہ صبح تو اس نے یہاں سے چلے ہی جانا ہے پھر کیوں نہ وہ مسٹر مہران صاحب کا حساب برابر کرتی جائے۔
”آپ اتنے شفیق ہیں اور ان کا رویہ… برتاؤ…“ وہ جان بوجھ کر خاموش ہو گئی۔ ادھوری بات زیادہ پراثر ہوتی ہے۔
کھانا کھاتے یکدم ان کے ہاتھ رک گئے۔
”اتنی بدتمیزی سے وہ میرا مذاق اڑاتے رہے۔ بلند بانگ قہقہے لگاتے رہے۔ گھر آئے بے بس مہمان کے ساتھ کوئی ایسا کرتا ہے۔“ وہ بھول گئی تھی کہ وہ گھر آیا مہمان نہیں۔ گھر لائی گئی پناہ گزین ہے۔
”ٹھیک کہا حرا! یہی بات میں اسے سمجھاتا ہوں۔“
”اس گڑھے سے اوپر آنے کے لیے مجھے دستانے اتارنے پڑے اور ٹھنڈی برف نے میرے ہاتھ سن کر دیے اور خون رسنے لگا۔“
”اوہ!“ ڈاکٹر صاحب نے کھانا چھوڑ کر اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ ”مجھے دکھاؤ۔“
اس نے ہاتھ سامنے کیے۔ ”جنت سے دوا لے کر میں نے لگا لی تھی مگر درد…“ پھر بات ادھوری۔
باقی الفاظ اس کے منہ میں رہ گئے جہاں وہ بیٹھی تھی وہاں سے دائیں طرف سیدھی رو میں کچن تھا اور کچن ٹیبل پر کھانا سامنے رکھے وہ اسے نظر آ گیا۔ وہ یکسوئی سے حرا کی طرف دیکھ رہا تھا۔
حرا گھبرا گئی۔ ”میں شرمندہ ہوں بیٹا!“
”نہیں…“ نہیں،میں تو بس ایسے ہی… اِٹس اوکے۔“
جلدی جلدی پلیٹ صاف کرکے وہ کمرے میں آ گئی۔ کھانا ابھی اس نے اور کھانا تھا لیکن…
”کیا ضرورت تھی ان سے یہ سب کہنے کی،ان کے بیٹے کی شکایت۔
“
کچھ ہی دیر بعد جنت ٹرے لیے آ گئی۔ ”حرا بی بی! کھانا کھا لیں آپ نے ٹھیک طرح سے نہیں کھایا کھانا۔“
”نہیں! میں کھا چکی ہوں۔“ اس نے مروتاً کہا ورنہ مٹر پلاؤ تو اس نے ابھی شروع ہی کیا تھا۔
”میں رکھ جاتی ہوں جب دل چاہے کھا لیجیے گا۔“ وہ رکی۔ ”مہران بھائی کہہ رہے تھے بھوکے پیٹ سونے سے رات کو برے برے خواب آتے ہیں۔“
حرا بری طرح چونکی۔ کھانا مہران نے بھجوایا تھا۔
غصہ ایک طرف۔ کھانا اس نے پیٹ بھر کر کھایا،معاذ کو فون کیا باری باری سب سے بات کی۔
”حرا…!“معاذ بھائی کی الجھن بھری آواز سنائی دی۔ ”تمہیں یاد ہے مدیحہ کے چچا نے جو ایک گھنٹے کا لیکچر دیا تھا اس ریسٹ ہاؤس کے بارے میں۔“
”نہیں… مجھے نہیں یاد… اور کیوں یاد رکھتی۔“
”ہم سب نے بھی یہی کہا کیوں یاد رکھتے… وہ سب ناممکنات، ہدایات، ضروریات، امکانات، احتیاطات،ممکنات اور فضولیات بھول گئے۔ کل رات جبار اپنے گھر جانے کا کہہ کر گیا اور ابھی تک نہیں آیا۔ ہم سب گھر کے اندر دبکے پڑے رہے،برف ہٹانے کے لیے ہمیں تو پورے گھر میں کوئی چیز نہیں ملی۔ معلوم نہیں جبار کب آئے گا۔“
”تو…“ حرا گھبرا گئی۔
”ہم تو خود یہاں قید ہیں۔
“
”اوہ… برف باری تو ابھی بھی ہو رہی ہے وقفے وقفے سے۔ رات تک تو مزید ڈھیر بن جائے گا۔ آپ نے جانے ہی کیوں دیا جبار کو…“
”کہہ رہا تھا گیا اور آیا… مجھے کیا معلوم تھا کہ گیا اور آیا کے درمیان وہ اتنا لمبا وقفہ دے گا۔ اس کے آتے ہی میں کچھ بھی کرکے تمہیں لینے آ جاؤں گا۔ تم ڈاکٹر صاحب سے میری بات کرواؤ۔
“
”وہ تو شاید جا چکے ہیں ہسپتال واپس،میں صبح ان سے بات کروا دوں گی۔
اچھا تو نہیں لگتا نا اس طرح کسی کے گھر رہنا۔“
”اچھا تو نہیں لگتا لیکن…“ وہ چپ ہو گیا۔ ”یقین کرو اس سب میں میرا ذاتی کوئی قصور نہیں پھر سوچو جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے۔“
حرا کو ہنسی آ گئی۔ اس نے مہران سے متعلق کوئی بات نہیں بتائی۔
ٹرے کچن میں لاکر وہ برتن دھونے لگی۔ جنت سو چکی تھی۔ گھر میں سناٹا تھا جیسے یہاں کوئی نہیں رہتا۔
اس کا دل چاہا کہ وہ برف باری میں باہر نکلے اور کسی خان کے ہوٹل سے قہوہ پیئے۔ معاذ کے ساتھ وہ نکل بھی جاتی مگر یہاں سے کیسے جاتی،لاؤنج میں بنی قد آدم کھڑکیوں سے وہ باہر دیر تک دیکھتی رہی۔ گھر کے اندر اور باہر دونوں طرف کا منظر انتہائی دلفریب تھا۔
وہ کچن کی طرف آنے کے لیے کمرے سے باہر نکلی، کمرے سے آگے راہداری کی طرف وہ جیسے ہی مڑی چھنا کے سے فرش پر کچھ گرا۔
یہ وہی مگ تھا جو آج دن میں مہران کے ہاتھ میں تھا فرش پر چائے ٹوٹے مگ سمیت پھیل گئی۔
”یہ کیا کیا تم نے؟“ وہ غصے سے چلایا۔
حرا مگ کے گرنے اور اس کے چلانے پر سہم گئی۔
”سوری“ وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکی جبکہ اس سب میں اس کی قطعاً کوئی غلطی نہیں تھی۔
”سوری“… اس نے اس کے لفظ جیسے چبائے۔ جینز جیکٹ اور گردن کے گردن مفلر لپیٹے،سر پر پٹھانوں والی مخصوص ٹوپی لیے وہ اسے اور ٹوٹے مگ کو دیکھ رہا تھا۔
”میں ابھی بنا دیتی ہوں،میں شرمندہ ہوں،انجانے میں…“
”کیسے بناؤ گی؟“… وہی چبانے والا انداز۔
”میں بنا لیتی ہوں چائے“وہ سمجھی شاید وہ سمجھتا ہے کہ اسے چائے بنانی نہیں آتی۔ ”مجھے آتی ہے چائے بنانی۔“
”بناؤ گی کس سے“… وہی انداز۔
”پانی… دودھ… اور“
دودھ نہیں ہے… اب…؟“
وہ پریشان ہو گئی۔
”اتنی ٹھنڈ میں،میں گھر سے اتنی دور گیا،ہوٹل والے کے پاس سارا دودھ ختم ہو چکا تھا۔ صرف یہ آدھا مگ دودھ ہی مجھے مل سکا۔ میرے سر میں درد ہو رہا تھا۔ ان فیکٹ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ رات کے اس پہر میں اٹھا اور سوچا چائے ہی پی لوں شاید فرق پڑ جائے درد میں۔“
”وہ باقاعدہ اداکاری کر رہا تھا۔“ لیکن میں ایسا کیسے کر سکتا تھا… میں نے ایسا سوچا بھی کیسے… جبکہ تم یہاں موجود ہو…“
عام حالات ہوتے تو حرا تالیاں بجاتی اور کہتی ”بہت اچھا ہوا“ مگر اب
”ایم سوری…“
”مجھے سوری نہیں،چائے چاہیے’“
”آپ کافی پی لیں…“
”میں کافی نہیں پیتا…“
”خشک دودھ ہے تو میں اس کی…“
ڈرائے ملک،پیک ملک،فریش ملک،سب ملک ختم ہو گئے ہیں آج۔
“
وہ اسی پھاڑ کھانے والے انداز میں بولا۔
وہ اس کی طرف بے بسی سے دیکھنے لگی۔ اس کی قسمت خراب جو وہ اس وقت کمرے سے باہر آئی۔
”تمہیں اپنے کمرے میں چین نہیں تھا؟“
”وہ حرا سے ایسے مخاطب ہوتا تھا جیسے دونوں کی بچپن سے خونی دشمنی چلی آ رہی ہو۔
وہ حرا سے پانچ چھ سال بڑا ہوگا،معاذ جیسا لمبا اور ورزشی جسم… چند دنوں کی بڑھی ہوئی داڑھی اور نکھری ہوئی سانولی رنگت وہ خوبصورت نہیں بے حد پرکشش،سوبر اور ڈیسنٹ لگتا تھا وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کی بارعب شخصیت کی وجہ سے ان کے سامنے بولا ہی نہیں جاتا…
”میں نے سوری کیا تو ہے۔
“ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز رندھ گئی۔
”کیا کروں میں اس سوری کا۔“
”اپنے سر پر مار لیں…“ اس نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔ برداشت کی حد تک ختم ہو گئی، اخلاق ایک طرف… ضبط دوسری طرف اور ”انہوں نے میری مدد کی ہے“ تیسری طرف رکھ کر وہ بولی۔
”اپنی خوشی سے یہاں نہیں آئی،بدقسمتی سے آئی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم اس علاقے اور یہاں کے رہنے والوں کے بارے میں،مجھے یہ بھی معلوم نہیں کیسے شوز پہن کر برف پر چلا جاتا ہے۔
اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہاں میں آپ کی چائے سے ٹکرا جاؤں گی،سارا دودھ بھی ختم ہو جائے گا۔ معلوم ہوتا تو چائے سے ٹکرانے کی بجائے میں اس گڑھے میں گرنا پسند کرتی اور اپنی اکڑی ہوئی لاش کی صورت گھر جانا پسند کرتی۔“
وہ سانس لینے کے لیے رکی۔
وہ زمین سے مگ کے ٹکڑے اٹھا کر سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
”جاہل… گنوار… پاگل…“ زیر لب دو تین گالیاں دے کر وہ کمرے میں آ گئی۔
صبح ناشتے کی ٹیبل پر اسے ڈاکٹر صاحب مل گئے۔ اس بار اس نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی غلطی نہیں کی۔ معاذ نے ان سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحب ہنسنے لگے۔
”بیٹا! آپ پریشان نہ ہو“ وہ حرا سے مخاطب تھے۔ ”آپ اطمینان سے رہو۔ راستہ کلیئر ہو،تب جانا۔ ہم پر آپ کی مہمان نوازی بار نہیں…“
جنت کے ساتھ مل کر پھر حرا نے جتنا ہو سکتا تھا کام کروایا… ایک بار باہر جانے کے بعد وہ دوبارہ باہر نہیں گئی…
”حرا بی بی سبزیاں کاٹ دیں گی آپ؟“
”ہاں! کیوں نہیں۔
“ حرا آلو چھیلنے لگی۔
”ڈاکٹر صاحب نے چھ لوگوں کا کھانا منگوایا ہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں اکبر آ جائے گا کھانا لینے۔ روٹی کے لیے آٹا کم ہے سوچا،جتنی دیر میں،میں آٹا لاؤں گی آپ سبزیاں بنا کر پکا دیں گی لیکن میری واپسی تک تو آپ آدھی سبزی بھی نہیں بنا سکیں گی،آپ بازار تک جا سکتی ہیں؟“
”ہاں! کیوں نہیں… کہاں ہے بازار…؟“
”سیدھے ہاتھ والی سڑک سیدھی جاتی ہے کچھ دور ہی دُکانیں ہیں وہاں سے مل جائے گا۔
“
جنت جلدی جلدی اسے باقی ضروری چیزیں بھی بتانے لگی۔
”اپنے شوز دے دو مجھے۔“ حرا نے جنت کے شوز پہن لیے۔ سڑک پر بہت پھسلن تھی لیکن وہ آرام سے چل رہی تھی۔ جوتوں کا فرق اسے معلوم ہو گیا تھا۔ تیزی سے چلنے کے بعد اسے آدھے گھنٹے بعد دُکانیں نظر آئیں۔
”یہ کچھ دور ہے؟“ اس نے جنت سے تصور میں کہا۔
اس نے سارا سامان لیا،واپس جاتے ہوئے اس کے لیے چلنا مشکل ہو گیا۔
آتے ہوئے ڈھلان تھی اب چڑھائی تھی۔ وہ بھی سامان کے ساتھ،تین عدد وزنی شاپرز اٹھانا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا… کچھ دور چلنے کے بعد سامان سڑک پر ہی چھوڑ کر وہ واپس دُکان کی طرف گئی۔
”ٹرالی ہے؟“ اس سوال پر دُکان دار اس کی شکل دیکھنے لگا۔ ناچار وہ پھر واپس گئی اور شاپرز اٹھائے،آخر جنت بھی تو سودا لے کر جاتی ہے نا تو پھر میں کیوں نہیں۔
اس نے ہمت سے کام لیا۔
وہ دس منٹ چلتی،شاپرز نیچے رکھتی،سانس لیتی اور پھر اٹھا کر چلنے لگی۔
”ہم شہری لوگ…“ خود ہی کہہ کر وہ ہنسنے لگی۔ کیا سوچتی ہوگی جنت مجھے کچھ آتا ہی نہیں ہے۔
پھولے ہوئے سانس کے ساتھ وہ ساتھ ساتھ بولتی بھی جا رہی تھی،ایک کار تیزی سے اس کے قریب سے گزر کر رُکی،اس کا خیال تھا ڈاکٹر صاحب یا جنت کا شوہر ہوگا لیکن وہاں مہران صاحب تھے،اس نے بیٹھے بیٹھے ہی پیچھے کا دروازہ کھولا،حرا نے جلدی جلدی سامان اندر رکھا اور دروازہ بند کر دیا اور اپنا اسکارف ٹھیک کرتی آگے بڑھ گئی،وہ بھی زن سے کار آگے بڑھا لے گیا۔
”بدتمیز ایک بار بھی نہیں کہا کہ بیٹھ جاؤ۔“
غصہ ترک کرکے اس نے آس پاس غور کیا،بہت دلکش سڑک تھی۔ دور دور سے چھوٹے چھوٹے گھر نظر آ رہے تھے۔ وہ فرصت سے آرام آرام سے چلنے لگی۔ کبھی کسی درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو جاتی۔ دن روشن نہیں تھا۔ دھند میں لپیٹا ہوا تھا،برف کے ایک ڈھیر کے پاس رک کر وہ برفانی ریچھ بنانے کی کوشش کرنے لگی،کافی دیر تک بناتے رہنے کے بعد بھی جب برف نے ریچھ کی شکل اختیار نہیں کی تو وہ اسے ویسا ہی چھوڑ کر گھر کی طرف آ گئی۔
کچن پر نظر پڑتے ہی وہ شرمندہ سی ہو گئی۔ جنت جلدی جلدی روٹیاں بنا رہی تھی اور مہران انہیں سینک رہا تھا۔اسے بے انتہا شرمندگی ہوئی۔اسے جلدی آنا چاہیے تھا تاکہ وہ جنت کے ساتھ کام کروا سکے، شرمندہ شرمندہ سی وہ کمرے میں آ گئی۔
کچھ ہی دیر بعد جنت آ گئی۔
”حرا بی بی آ جائیں۔ میں نے ہال میں دستر خوان لگا دیا ہے۔“
شرمندہ سی وہ آکر ان سب کے ساتھ کھانا کھانے لگی اگر جنت بغیر کسی غرض کے سب کی اتنی خدمت کر سکتی ہے تو وہ کیوں نہیں۔
اسے اندازہ ہوا کہ وہ جنت کے مقابلے میں کس قدر چھوٹی ہے۔
جنت کے ”نہ نہ“ کرنے کے باوجود اس نے سب کچھ سمیٹا،برتن دھوئے اور کچن صاف کیا…
شام ہونے سے پہلے ہی تینوں عورتیں اور مرد چلے گئے۔ شام کو وہ ڈرتے ڈرتے باہر گئی لیکن پھر کمرے میں واپس آ کر ای ۔ایم سننے لگی۔ جنت کمرے میں آئی اور کمرے میں رکھے میگزین اٹھا کر لے گئی۔ دس منٹ بعد وہ انہیں لیے واپس آئی۔
”حرا بی بی! یہ سب آپ نے کیا ہے؟“ جنت نے دو تین صفحے اس کے سامنے الٹ پلٹ کر پوچھا… وہ جواب کیا دیتی۔ اس کی شکل پر چھائی شرمندگی بتا رہی تھی کہ یہ سب اس نے ہی کیا ہے۔ جنت میگزین واپس لے گئی۔ پانچ منٹ بعد دروازے پر دستک دے کر مہران آکھڑا ہوا۔ غصے سے اس کے اعصاب تنے ہوئے تھے۔
”یہ آرٹ کے نمونے آپ نے بنائے ہیں؟“
حرا نے سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ گھر اس کا نہیں اور نہ ہی وہ میگزین اس کے تھے نہ ہی یہاں نمل تھی جو برداشت کر لیتی۔
وہ شرمندہ سی اسے دیکھنے لگی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے سوال پر سوری کہے یا ”ہاں“
”اس میگزین کو غور سے دیکھئے! کبھی ایسا میگزین دیکھا ہے… یہ کوئی فلمی یا فیشن میگزین نہیں ہے۔ اس میگزین کو میرا ادارہ محدود تعداد میں شائع کرتا ہے ان لوگوں کے لیے،جن کا اس شعبے سے تعلق یعنی میرا… اور ان کو پڑھنے والے کسی نادر چیز کی طرح انہیں سنبھال کر رکھتے ہیں۔
انہیں آپ سنبھال کر رکھیے۔ آپ کی آرٹ کی نمائش کے لیے کام آئیں گے…“
اس نے میگزین بیڈ پر پھینکے اور چلا گیا۔
شرمندگی سی شرمندگی تھی جو وہ محسوس کر رہی تھی۔
اب اسے احساس ہو رہا تھا۔ یہ اس گھر میں کی جانے والی اس کی باقاعدہ غلطی تھی۔ وہ حقیقتاً اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ڈرتے ڈرتے وہ کمرے سے باہر نکلی۔
”میں بہت شرمندہ ہوں جنت! میری غلطی ہے۔
“ مہران کے سامنے تو وہ ایک لفظ نہیں کہہ سکی۔
”جو ہونا تھا ہو گیا،حرا بی بی! اب آپ پریشان نہ ہوں۔“
”میں واقعی میں بہت شرمندہ ہوں،تم میری طرف سے ان سے معذرت کر لو۔“
”میں کہہ دوں گی…“ جنت مسکرائی۔
سارا وقت وہ کمرے میں رہ رہ کر اپنی حرکت پر کڑھتی رہی۔
رات گئے ہمت کرکے کمرے سے باہر آئی تاکہ جنت کے ساتھ جاکر خود سے مہران سے سوری کہہ آئے۔ لاؤنج میں روشن دان کے پاس ہی وہ کتاب لیے بیٹھا تھا،قریب ہی لیپ ٹاپ پر انگلش میوزک بج رہا تھا۔
اس نے اسے دیکھ نہ لیا ہوتا تو وہ واپس چلی جاتی،بھاڑ میں جائے سوری،کل تو اس نے واپس چلے ہی جانا تھا… پھر بھی وہ اس کے پاس آکر کھڑی ہو گئی۔
”میں میگزین کے لیے آپ کو سوری کہنے آئی ہوں۔“
”اب کیا ہو سکتا ہے،لیواٹ۔“ اس نے کوئی تاثر دیے بغیر کہا،یعنی غصہ ابھی بھی تھا۔
”میں جانتی ہوں،میری غلطی ہے۔“ اس نے اتنا ہی کہا۔
”آپ ہماری مہمان ہیں،اب آپ کو کچھ کہہ تو نہیں سکتے۔
اس لیے اٹس اوکے۔“ وہ پھر بنا تاثر کے بولا۔
اس کا پارہ یکدم ہائی ہو گیا۔ معذرت تو بندہ طریقے سے قبول کر لے۔
”میں آپ کی نہیں،ڈاکٹر صاحب کی مہمان ہوں۔ انہوں نے ہی مجھے پناہ دی،میری مدد کی،میرا خیال رکھا۔ آپ تو جب ملے،خونخوار،منہ پھاڑ ہی ملے ہیں،نہ لڑکی ہونے کا احساس ہوا نہ ہی اکیلے اور مہمان ہونے کا خیال۔
“
”ہوں…“ اس نے ایک لمبی ہوں کی… جیسے مزے لے کر اپنا پسندیدہ کھانا کھایا جاتا ہے۔
”خونخوار… منہ پھاڑ… بہت اچھی باتیں کر لیتی ہیں آپ… بہت متاثر کیا اس بار بھی آپ نے…“
”آپ کی بدتمیزی نے بھی بہت متاثر کیا مجھے“ وہ دو بدو بولی۔
”اس بدتمیز شخص نے ہی اس رات آپ کو اکیلا دیکھ کر اپنے پاپا کو آپ کے پاس بھیجا تھا۔ اس گڑھے میں آپ خود گریں،لیکن نکالا میں نے۔ چائے میری آپ نے گرا دی،مگ میرا توڑ دیا جو میری بہن خاص میرے لیے ملائیشیا سے لائی تھی۔
میگزین میرے آپ نے آرٹ کے نمونے بنا دیے اور بدتمیز بھی میں ہوں… آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟“
”اگر میں آپ کے گھر میں نہ ہوتی تو میں آپ کو بتاتی کہ آپ کیا ہیں اور میں کیا ہوں…“ وہ غصے سے بھڑک اٹھی تھی۔
”آپ میرے گھر میں ہیں،اس بات کو بھول جائیں۔ آپ بتایئے مجھے۔“
”میں آپ سے سوری کر رہی ہوں اور آپ باتیں سنا رہے ہیں مجھے۔
“
”مجھے نہیں چاہیے آپ کا سوری… پھر…“
”پھر یہ کہ آپ بھاڑ میں جائیں۔“
”جہاں آپ گری تھیں وہاں؟“ وہ تمسخر سے بولا۔
حرا نے اس کے چہرے پر آئی مسکراہٹ کو دیکھا۔ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی،کچھ کہے بنا وہ کمرے میں واپس آ گئی۔
”آپ وہیں جا رہی ہیں؟“ اسے اپنے پیچھے آواز سنائی دی۔
”جنگلی… سنکی… گنوار…“ وہ دیر تک بڑبڑاتی رہی۔
###
صبح ہوتے ہی معاذ کا فون آ گیا وہ اسے لینے آ رہا تھا۔
”ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟“ اس نے ناشتا کرکے جنت سے پوچھا۔
”وہ تو رات آئے ہی نہیں۔“
اس کے بیگ میں مال سے خریدی ہوئی کچھ جیولری تھی۔ اس نے بے حد شکریہ کے ساتھ وہ جنت کو دی،جو بضد اصرار بھی وہ نہیں لے رہی تھی،اس کے شوہر اکبر کے ساتھ اسے مال تک جانا تھا وہیں سے معاذ نے اسے لینا تھا۔
جنت سے اچھی طرح مل کر وہ اکبر کے ساتھ آ گئی،راستے میں آنے والے ڈاکٹر خاور کے چھوٹے سے ہسپتال میں ان سے مل کر اور ان کا شکریہ ادا کرکے وہ مال سے معاذ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر ریسٹ ہاؤس آ گئی۔
وہ سب لوگ تیاری کرکے بیٹھے تھے۔ اس کے آتے ہی فوراً واپسی کے لیے نکل پڑے۔ اس کی کہانی سننے کے بعد جس میں مہران کا کہیں ذکر نہیں تھا،وہ سب اپنی اپنی خوش گپیوں میں مگن ہو گئے۔
سب معاذ کو دھمکی دے رہے تھے کہ وہ سب جا کر حرا کے بچھڑ جانے والی کہانی سب کو سنائیں گے۔
”میرے پاپا کی توبہ جو اتنے بڑے گینگ کے ساتھ اس طرف آیا۔“
”مسئلہ گینگ نہیں تھا،مسئلہ موسم تھا،ہم نے غلط وقت کا انتخاب کیا…“ شامل نے گینگ کا دفاع کیا۔
”یار! برف ہی نہیں دیکھ پاتے تو کیا فائدہ یہاں آنے کا۔“
”آپ شہری لوگ برف دیکھنے کے لیے تو پاگل ہو جاتے ہیں۔
“ کافی دیر سے خاموش حرا یکدم بولی۔
”ہم شہری لوگ مطلب…؟“ شامل حیرت سے بولا۔
”ہاں ہو جاتے ہیں پاگل۔جو نہیں دیکھا اسی کے لیے ہوتے ہیں نا،سارا سال ہوا اور دھوپ پر ہی گزارا کرتے ہیں۔ تھک جاتے ہیں ہم شہری لوگ…“ معاذ کو بات بات پر بلا وجہ غصہ آ رہا تھا،شاید وہ واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔
”آپ یہاں شفٹ ہو جائیں معاذ بھائی!“ مدیحہ بولی۔
”سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں…“
حرا سب سے زیادہ خاموش تھی۔ آتے ہوئے جو جوش ان سب میں تھا جاتے ہوئے وہ اُداسی میں بدل گیا تھا اور یہ اُداسی سب سے زیادہ حرا محسوس کر رہی تھی۔ وہ ہر گزرتی سڑک،درخت،پہاڑ… گھر کو اُداسی سے دیکھ رہی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ واپسی پر وہ اتنی اداس ہو جائے گی… لیکن وہ اداس اور خاموش ہوتی ہی چلی گئی۔
نمل نے کالج میں سب کو مزے لے لے کر اپنے اور سب کے بارے میں بتایا حرا کسی کو کچھ نہیں سنا سکی۔
وہ تین بہن بھائی تھے۔ بڑی نمل،حرا اور پھر جرار…
ان کے پاپا اتنے سخت تھے کہ ان کی پڑھائی کی وجہ سے گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی انہیں کہیں جانے نہیں دیتے تھے۔ معاذ کراچی سے آیا تو وہ اسے انکار نہیں کر سکے۔ ویسے بھی معاذ ان کے کزن کا بیٹا تھا۔
وہ اسے پسند بھی کرتے تھے اور اعتبار بھی۔ معاذ کا پروگرام سن کر جرار نے اتنا شور ڈالا کہ انہیں تینوں کو اجازت دینا ہی پڑی۔
نمل انجینئرنگ تھرڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ تھی اور حرا کام کی،سردیاں گزریں،گرمیاں آ گئیں… اور پھر گرمیاں بھی گزر گئیں۔ حرا کی اداسی بڑھتے بڑھتے مسلسل خاموشی کی صورت اختیار کر گئی۔ شروع میں سب نے نوٹ کیا پھر وہ اس کی خاموشی کے عادی ہو گئے۔
میوزک کو سنتے سنتے اس نے گانوں کے بولوں پر توجہ دینی شروع کر دی اور وہ انہیں دہراتی رہتی… حیرت انگیز طور پر اس نے ایک بار عابدہ پروین کو سنا اور وہ سنتی ہی چلی گئی۔
”معاذ سے شادی کرو گی؟“ نمل نے اچانک دھماکا کیا تھا۔
حرا کو جیسے کرنٹ لگا۔ ”تم نے کیوں پوچھا؟“
”پاپا اور ماما کی خواہش ہے کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کا معاذ کے ساتھ رشتہ پکا ہو جائے… سوچا تم سے تمہاری مرضی پوچھ لوں۔
“
”ناں…“ اس نے فوراً کہا… ”اور تم؟“
”ظاہر ہے،ہاں…“ نمل دل کھول کر ہنسی۔ ”معاذ کی بھی یہی مرضی ہے۔ تمہیں تو میں ویسے ہی تنگ کر رہی تھی۔ ویسے تم نے معاذ کے لیے نہ کیوں کہا۔ کوئی خرابی ہے اس میں؟“
”نہیں۔“
اتنا کہہ کر وہ ایسے خاموش ہو گئی جیسے پھر نہیں بولے گی۔ اس کی نظریں چھوٹے سے سفید بیر پر ٹکی تھی۔ جب وہ اکبر کے ساتھ ڈاکٹر خاور کے گھر سے واپس آ رہی تھی تو واپسی پر اس کی نظر سڑک کے کنارے اس برفانی ریچھ پر پڑی تھی جو وہ بنانے کی کوشش کرتی رہی تھی،لیکن بنا نہیں سکی تھی،وہ برف کا ریچھ خوبصورتی سے تیار کھڑا تھا۔
اس کے ایک ہاتھ میں برف ہی سے بنا سفید مگ تھا جو وہ منہ کے قریب لے کر جا رہا تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ کس نے بنایا ہوگا۔اس وقت اس نے اُسے غصے سے دیکھا تھا لیکن اب وہ اسے بری طرح یاد آ رہا تھا۔
###
بہار کا موسم تھا اور وہ سرخ سیبوں کا تازہ جوس نکال رہا تھا۔
”کالی مرچ دو جنت!“ اس نے قریب ہی کام کرتی جنت سے کہا۔
”اوہ… وہ تو کل ہی ختم ہو گئی تھی،یاد ہی نہیں رہا منگوانا۔
“
”تم کسی کام کی نہیں ہو جنت!“مہران پچھلے ڈیڑھ سال سے اسے وقفے وقفے سے یہ ضرور کہہ دیتا تھا۔قریب ہی کچن ٹیبل پر آیان بیٹھا تھا۔ وہ کچھ دن پہلے ہی آسٹریلیا سے اپنے سمسٹرز سے فارغ ہو کر آیا تھا۔
وہ مہران سے چھوٹا تھا۔سب سے بڑی سارہ تھی۔ آیان اکاؤنٹس کا اسٹوڈنٹ تھا،مہران ڈاکو منٹریز بناتا تھا۔ تین سال پہلے وہ بھی آسٹریلیا میں ہی تھا۔
”حیرت ہے! جنت اب تمہارے کسی کام کی نہیں رہی۔“ آیان نے مزا لیا۔
دو گلاس اپنے لیے بھر کر اور ایک جنت کے لیے وہیں چھوڑ کر وہ کچن کے دروازے سے پیچھے لان میں آ گیا۔
”وہ تو محترمہ یہاں گری تھیں۔“ آیان نے گڑھے کی طرف اشارہ کیا۔
مہران نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرانے لگا۔ ”اکبر نے پانی کے پائپ کے لیے کھدائی کی تھی۔ موسم بدلا تو اس نے کام درمیان میں ہی روک دیا،پانی کا مسئلہ حل ہو گیا تو یہ گڑھا ایسے ہی رہ گیا۔
“
”اگر اکبر کام مکمل کرلیتا تو وہ یہاں نہ گرتی۔“
”اگر یہ نہ ہوتا تو بھی وہ کہیں نہ کہیں جگہ تلاش کرکے گر ہی جاتی۔“
”ہاں… اتنا شوق تھا گرنے کا… ”کے ٹو“ لے جاتے۔ ایک ہی بار شوق پورا کر دیتے۔“ آیان کہہ کر ”کھی کھی“ کرنے لگا۔
”مت پوچھو کیسے گرتی تھی۔ یو نو! جو بلیک لانگ شوز اس نے پہن رکھے تھے۔ وہی شوز جو ماڈلز ریمپ پر پہن کر واک کرتی ہیں اور ٹک ٹک کرتی مزے سے چلتی جاتی ہیں۔
بس اسے یہ غلط فہمی تھی کہ وہ بھی انہیں پہن کر برف پر ویسے ہی چل سکتی ہے۔“
”جب میں یہاں اسے اپنی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ اتنی بری طرح گرے گی مگر جب وہ گری تو ہنس ہنس کر میرا برا حال ہو گیا۔ جب میں اس کے سر پر جا کر کھڑا ہوا تو اس کی شکل دیکھنے والی تھی۔“
”بہت خوب صورت تھی وہ…“
”نہیں… خوب صورت تو نہیں… مگر کیوٹ بہت تھی… غصہ کرتی تو چھوٹی سی مانو بلی لگتی تھی۔“
”اس مانو بلی سے تھوڑی سی دوستی ہی کر لیتے۔“
”کیسے کر لیتا،ایک کے بعد ایک واقعہ ہوتا چلا گیا۔“ وہ چلی گئی۔ میں کام سے صبح اسلام آباد چلا گیا تھا واپس آیا تو وہ جا چکی تھی۔ ویسے جنت بازار میں ملنے والوں سے بھی اچھی دعا سلام رکھتی ہے۔ شہر اور گھر کا اتا پتہ رکھتی ہے ایک فون نمبر نہیں لے سکی اس سے۔“
”افسوس جنت کی کاردگی پر…“ آیان مزے لے رہا تھا۔
”کہہ رہی تھی اتنا کام تھا ان دنوں کہ ہوش ہی نہیں رہا بس اتنا معلوم ہے کہ وہ لاہور سے آئی تھی۔
“
”ہاں… ڈیڑھ سال ہو گیا۔ اسے تو معلوم ہے ہمارے گھر کا۔“ مہران نے آہ بھری ”پھر بھی…“
”پھر بھی یہ کہ وہ تم جیسے بدتمیز سے ملنے کیوں آئی۔ ویسے مہران اسے پسند کرتے ہو یا محبت؟“
”محبت کا تو نہیں معلوم… لیکن جس دن سے وہ گئی ہے،اسی دن سے وہ مجھے یاد آنے لگی ہے۔
کوئی وجہ بھی نہیں اور پھر بھی… فیس بک پر ڈھونڈا… حرا خان،جرار احمد،حرا سلطان،حرا زمان اور نہ جانے کتنی حرا کو میسج کر چکا ہوں،مگر وہ حرا نہیں ملی۔
“
”وہ تمہیں ناپسند کرتی ہوگی بہت،ہو سکتا ہے دوبارہ آئی ہو یہاں گھومنے مگر یہاں نہ آئی ہو۔ ظاہر ہے اگر وہ یہاں نہیں آئی تو اس کا مطلب بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ وہ انگیجڈ ہو سکتی ہے،ہو سکتا ہے اس کی شادی ہو چکی ہو یا وہ کسی کو پسند کرتی ہو اور یہ بھی کہ اسے یاد بھی نہ ہو کہ کبھی یہاں آئی بھی تھی اور یہ کہ تم ہو کون“تم نے ان امکانات پر غور کیا؟“
”نہیں…“ مہران نے جل کر کہا۔
”میں نے صرف ایک امکان پر غور کیا ہے کہ وہ یہاں آئی ہے اور کہتی ہے… میں تو ڈاکٹر صاحب سے ملنے آئی ہوں۔“
”فرض کرو ایسے ہو جاتا ہے تو…“
”تو بس آگے اسے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔“
”چلو اب یہ فرض کرو کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا تو…؟“
مہران نے اس بار صرف اسے گھور کر ہی دیکھا۔
”وہ تمہیں پسند نہیں کرتی۔“
”تم اس سے پوچھ کر آئے ہو؟“
”واقعات اور تاریخ گواہ ہے لڑکیاں ان لڑکوں کو پسند کرتی ہیں جو ان سے تمیز سے بات کریں۔
انہیں نہیں جو انہیں کھری کھری سنائے،ویسے انکل شیراز کی بیٹی کا کیا کرنا ہے۔ بہت خوب صورت ہے صوفیہ۔“
”یار!“ سارہ،ماما،پاپا سب نے تنگ کر رکھا ہے،چاہتے ہیں راتوں رات دولہا بن کر اس کے گھر پہنچ جاؤں۔“
”میری مانو تو صوفیہ کے لیے ہاں کہہ دو۔ حرا نہیں آئے گی۔ ڈیڑھ سال کم نہیں ہوتا۔“
”کہہ تو ٹھیک رہے ہو،لیکن… اداسی ختم ہی نہیں ہوتی یہ سوچ کر کہ وہ چلی گئی اور اب آ نہیں رہی…“
”چلتے ہیں پھر آج ہی انکل شیراز کے گھر۔
“ آیان نے اُسے بہلایا۔ ”کچھ دن لگیں گے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ویسے وہ میگزنز مجھے بھی دکھائیں۔ کہاں ہیں۔“
نہ چاہتے ہوئے بھی مہران مسکرانے لگا۔
”ویسے اچھا ہو تاکہ تم لاہور جا کر گلی گلی اسے تلاش کرتے۔“
”لاہور بہت بڑا ہے۔“ مہران نے کہا۔ ”وہاں گلیاں بھی بہت ہوں گی۔“
”ہو سکتا ہے وہ کسی اور شہر شفٹ ہو چکی ہو۔
“
”تم کتنی بکواس کرتے ہو۔“
”ہو سکتا ہے وہ ملک سے ہی باہر چلی گئی ہو۔“ آیان خاموش نہیں ہو رہا تھا۔
”ہو سکتا ہے،وہ یہاں آنے کی تیاری کر رہی ہو۔“ مہران نے منہ لٹکا کر کہا۔
”یہ آخر والا ”ہو سکتا“ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ چھوڑ دو مہران اب… بس…“
###
نمل اور معاذ کی بات پکی کر دی گئی تھی۔
حرا نے فون کرکے کئی بار معاذ کو مری چلنے کے لیے کہا مگر وہ مان ہی نہیں رہا تھا۔ وہ ڈر گیا تھا،خاص کر کسی لڑکی کو ساتھ لے کر جانا نہیں چاہتا تھا۔ اس بار وہ لاہور آیا تو وہ پھر اس کے سر ہو گئی۔ صرف معاذ ہی تھا جو اسے لے کر جا سکتا تھا۔ پاپا توخیر کبھی نہ جاتے اور نہ ہی جرار کے ساتھ جانے دیتے اور نہ کوئی سمجھتا تھا کہ اس کی کوئی خاص ضرورت ہے۔
”نہ اب نہیں کبھی حرا! میں بہت ڈر گیا ہوں۔“
”آپ کو تو بہت پسند ہے وہ علاقہ۔“ وہ کب سے اسے منا رہی تھی۔
”بے حد پسند ہے لیکن کسی لڑکی کو لے کر میں نہیں جاؤں گا۔“
”نمل کے ساتھ بھی نہیں؟“
”نہیں… میں بہت محتاط ہو گیا ہوں۔“
”حادثات تو ہوتے ہی ہیں۔ ہم سب ٹھیک ٹھاک واپس تو آ گئے نا۔“
”ایک بار ٹھیک ٹھاک واپس آ گئے۔
نہ جانے اگلی بار کیا ہو۔“
”آپ اتنا ڈر گئے ہیں،اب سردیاں بھی نہیں ہیں سب جاتے ہیں وہاں۔“ وہ رو دینے کو تھی۔ ”میں نے اتنے سارے پیسے جمع کر لیے ہیں۔ آپ کے پیسے خرچ نہیں ہوں گے۔“
”مسئلہ پیسے نہیں ہیں۔“
”پلیز میرے لیے۔ خدا کے لیے کوئی تو چلے وہاں میرے ساتھ۔“ وہ سچ مچ رونے لگی۔ معاذ نے چونک کر اسے دیکھا۔
”کیا ہوا حرا؟“ وہ بے حد پریشان ہو گیا۔
”میں بھول آئی ہوں کچھ وہاں۔ مجھے جا کر لا دیں۔“
”کیا بھول آئی ہو؟“ وہ کیسے سمجھتا۔ حرا نے صرف گیلی آنکھوں سے معاذ کو دیکھا۔
”میں نے اتنا انتظار کیا کہ کوئی تو مجھے وہاں لے جائے مگر…“
معاذ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
”ڈاکٹر خاورکے گھر جانا ہے؟“
حرا نے صرف سر ہلایا۔
اندر لاکھ وسوسے تھے مگر کسی کو تو بتانا ہی تھا۔
”ہم ان کے گھر جا کر کہیں گے کیا حرا!“ وہ پریشان ہو گیا۔ ”بہت عجیب سا لگے گا۔“
”ہم کہیں گے ہم ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔“ حرا نے جوش سے کہا۔ ”ان سے ملنے آئے ہیں باقی وقت بتا دے گا کہ ہمارا جانا ٹھیک تھا یا نہیں۔“
ناچار معاذ نے پھر سے وہی گینگ اکٹھا کیا کسی کو بھی خبر دیے بغیر۔
ان سب کو ہوٹل میں چھوڑ کر حرا کو لیے وہ چل پڑا… گاڑی میں بیٹھی حرا وسوسوں کا شکار تھی۔
###
صرف آیان تھا جو یکسوئی سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ ماما نے اسلام آباد سے سارہ کو بلوا لیا تھا۔ پاپا،ماما اور سارہ کافی دیر سے اس کی اور صوفیہ کی متوقع منگنی کو ڈسکس کر رہے تھے۔
مہران لیپ ٹاپ کھولے بے مقصد فضول سے آن لائن گیمز کھیل رہا تھا۔
اسے رہ رہ کر صوفیہ پر غصہ آ رہا تھا۔ کیا ضرورت تھی انکل شیراز کی کنواری بیٹی ہونے کی۔ نہ وہ ہوتی،نہ اس پر اتنا دباؤ ڈالا جاتا اس سے شادی پر۔ وہ آرام سے انتظار کرتا رہتا،وہ برے برے منہ بنا رہا تھا۔
”پاپا! آپ انکل سے کہہ دیں ہم کل آئیں گے ان کے گھر۔“ سارہ نے شاید سب معاملات نبٹا لیے تھے۔
آیان نے اسے آنکھ ماری۔
”ٹھیک ہے۔
“ پاپا نے فون ہاتھ میں پکڑا۔
”بیٹا! فرقان کا انتظار کر لیتے ہیں۔“ ماما نے سارہ کے شوہر کا نام لیا۔
”ماما! وہ ایک ہفتے تک نہیںآ سکتے۔ کیا ضرورت ہے ان کا انتظار کرنے کی۔“
”میرا خیال ہے اس کا انتظار کر لینا چاہیے۔“ مہران نے زور دے کر کہا۔
ڈاکٹر خاور فون ہاتھ میں لیے باری باری دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ”بتاؤ بیٹا سارہ! میں کیا کروں۔
“
”پاپا! آپ کر دیں انہیں فون۔“
ڈور بیل کی آواز صرف آیان نے ہی سنی۔ ناچار اسے ہی اٹھنا پڑا لیکن جنت پہلے ہی دروازہ کھول چکی تھی۔
”ہمیں ڈاکٹر خاور سے ملنا ہے۔ انہوں نے ہماری بہت مدد کی تھی۔ میری بہن کو اپنے گھر میں رکھا تھا جب…“
لاؤنج میں بیٹھے مہران نے لیپ ٹاپ ایک طرف پھینکا اور لپک کر دروازے تک آیا۔
آیان انہیں اندر لا رہا تھا۔
مہران وہیں کھڑا ہو گیا اور معاذ کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کرتی حرا…
سفید کرتا اور چوڑی دار پاجامے میں وہ پہلے سے زیادہ کیوٹ لگ رہی تھی۔ لاؤنج میں بیٹھے سب ان کی طرف دیکھنے لگے۔ ڈاکٹر خاور حرا کو پہچان کر فوراً اٹھے۔ فون ابھی ان کے ہاتھ میں ہی تھا۔
جب وہ باری باری سب کو سلام کر رہی تھی تو اس تک آ کر رک گئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا… پہلی بار!!!
وہ دونوں جان گئے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کیا بن چکے ہیں…!

Comments
Post a Comment